اسلام آباد(آن لائن) وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ ہمیں مغرب کو مزید راضی رکھنے کا تاثر نہیں دینا چاہیے، یہ انکشاف لیک ہونے والے ایک انٹرنل میمو سے سامنے آیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی لیک خفیہ دستاویزات میں پاکستانی وزیر مملکت خارجہ امور کے میمو بھی سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جو میمو سامنے آیا اس کا عنوان”پاکستان کے لیے مشکل انتخاب“ تھا، حناربانی کھر نے خبردار کیا کہ چین اور امریکا کے درمیان غیر جانبداری کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔لیک میمو میں حناربانی کھر نے مزید کہا کہ امریکا سے جڑے رہنے سے چین سے شراکت داری کے فوائد پر اثر پڑے گا۔اس کے علاوہ امریکی لیک دستاویزات میں پاکستان پر یوکرین قرارداد کی حمایت سے متعلق میمو بھی سامنے آیا، لیک دستاویزات میں 21فروری کے میمو کی تفصیلات شیئر کی گئیں جس میں شہباز شریف اور ان کے معاون کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات درج تھیں۔لیک میمو میں یوکرین کے تنازع پر اقوام متحدہ کی ووٹنگ کا بھی ذکر تھا، جس میں روسی مذمت کی قرارداد کی حمایت کے لیے مغربی دباؤ کی تجدید کرنا تھی۔معاون نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ قرارداد کی حمایت پاکستان کی پوزیشن میں تبدیلی کا اشارہ دے گی، معاون نے میمو میں کہا کہ پاکستان ماضی میں اسی طرح کی قرارداد پر ووٹنگ سے پرہیز کرتا رہا ہے۔معاون نے شہباز شریف کو بتایا کہ پاکستان روس سے تجارت، توانائی معاہدوں پر بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مغربی حمایت یافتہ قرار داد کی حمایت روس کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
Load/Hide Comments



