اسلام آباد (آن لائن) وزارت خزانہ نے پاکستانی معیشت کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ ہفتہ کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے موجودہ ذخائر 10 ارب ڈالرز ہیں جن میں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 4.4 ارب ڈالرز جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.6 ارب ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 23-2022 کے جولائی تا مارچ حصے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) گزشتہ مالی سال کے جولائی تا مارچ حصے کی نسبت 22.5 فیصد کم ہوئی۔ مالی سال 22-2021 کے جولائی تا مارچ حصے کی ایف ڈی آئی 1.35 بلین ڈالرز جبکہ موجودہ مالی سال کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 1.05 بلین ڈالرز ہے۔ مالی سال 23-2022 کے پہلے نوماہ میں چین نے براہ راست 319.2 ملین ڈالرز، جاپان نے 157.3 ملین ڈالرز جبکہ سوئٹزر لینڈ نے 123.1 ملین ڈالرز کی براہ راست سرمایہ کاری کی ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں جاری مالی کھاتوں کا خسارہ 3.4 بلین ڈالرز ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی حصے میں 13 بلین ڈالرز تھا۔ جاری مالی کھاتوں میں مارچ 2023 تک 654 ملین ڈالرز کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کے اسی حصے میں ملک کے جاری مالی کھاتوں کو 981 ملین ڈالرز کے خسارے کا سامنا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 23-2022 کے جولائی تا مارچ حصے میں 21 بلین ڈالرز کی برآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ گزشتہ برس کے اس حصے میں ملکی برآمدات 23.3 ارب ڈالرز تھیں۔ مذکورہ دورانیے میں خام کاٹن، فٹ بالز، مچھلی اور سرجیکل آلات کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال کے جولائی تا مارچ حصے میں ایف بی آر کی محصولات جمع کرنے کی استعداد کار میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں ایف بی آر نے 5156 ارب روپے کے محصولات جمع کئے جس گزشتہ برس اسی دورانیے میں 4376 ارب روپے تھے۔ روپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی تازہ ترین شرح 35.4 فیصد پر ریکارڈ کی گئی اور ماہانہ مہنگائی کی شرح میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
Load/Hide Comments



