اے این پی کی ایمل ولی خان کو قتل کی دھمکی کی مذمت

کوئٹہ (آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں اے این پی صوبہ پشتون خوا کے صدر ایمل ولی خان کو اسٹیٹ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرف سے قتل کی دھمکی دینے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب بھی ملک میں عام انتخابات قریب آجاتے ہیں تو عوامی نیشنل پارٹی اور اس کی قیادت کو عوام سے دور رکھنے کی ازمودہ حربے آزمائے جاتے ہیں جو یکساں انتخابی مواقع فراہم کرنے سے روگردانی ہے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو کیفر کردار پہنچا کر ہی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جاسکے گا ایمل ولی خان باچاخان کی سیاست کا وارث اور امین ہے اور وہ اپنے آبااجداد کے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیراہوتے ہوئے ان کی تاریخ سیاست فلسفے کی پرچار کرہے ہیں اور درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہوکر پشتونوں کی قومی سیاسی معاشی حقوق کے تحفظ میں پیش پیش رہینگے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری کردہ صوبائی بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما صوبہ پشتون خوا کے صدر اور باچاخان،ولی خان کے افکار و نظریات کے وارث اور آمین کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی جانب سے قتل کی دھمکی دینے اور انہیں نقل و حمل کم کرنے محتاط رہنیکی وارننگ دینے پر گہری تشویش کااظہار اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان قوتوں اور ان کے سرپرستوں کی بھول ہے کہ وہ صد سالہ تحریک کے وارث کو ڈر خوف سے مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں فکر باچاخان کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ بہت سارے سیاسی مخالفین بھی ایمل ولی خان کو ہدف تنقید بنائے ہوئے جو در حقیقت ایک ہی سکے دو رخ ہے بیان میں کہا گیا کہ جب ھی اس ملک میں انتخابات قریب آتے ہیں تو پروردہ قوتوں کی ایما پر نان اسٹیٹ ایکٹرز عوامی نیشنل پارٹی اور اس کے قیادت کے خلاف سرگرم عمل ہوتے ہیں ماضی میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کو پارلیمان سے دور رکھا گیا بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کی سیاسی ونگ اور مقتدرہ کے سابقہ ذمہدران کو سزا دئیے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہے.