اسلام آباد ہائی کورٹ، ڈیم فنڈ پر سپریم کورٹ کے اختیارات کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے ڈیم فنڈ پر سپریم کورٹ کے اختیارات کیخلاف درخواست پر سماعت کی عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔وکیل عدنان اقبال عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹیفیکیشن پورا پڑھیں اس میں کیا ہے جس پر عدنان اقبال نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز پرانے رجسٹرار صاحب ہیں جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ تو کیا ہوا اس میں ایشو کیا ہے جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ ڈیم بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے سپریم کورٹ کیسے دیکھ رہی ہے175 آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ جوڈیشری کے اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہوں ایسے تو پھر ہم بھی یہی کرتے ہیں ہمارے اکاؤنٹ میں بھی سیلری آتی ہے جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں اتنے کیسز التوا میں ہیں انھیں دیکھنا چاہیے جس پر عدالت نے کہا کہ تو اس میں کیا ہے وہ تو انتظامی طور پر معاملہ ہورہا ہے سپریم کورٹ بھی ایگزیکٹو باڈی ہییا تو آپ کہیں کہ وہ پیسہ اپنے گھروں میں لگا رہے ہیں آپ نے اس وقت پٹیشن کیوں نہیں کی جب کلیکشن ہو رہی تھی ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا اب ڈیم فنڈز جمع ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں ڈیم فنڈز پر اگر اعتراض ہوتا تو اسٹیٹ بنک کو ہوتااسٹیٹ بنک کو کوئی اعتراض ہوتا تو اکاونٹ ہی نہ کھلتا جس پر وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار نہیں کہ اسطرح فنڈز اکٹھے کرے عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا.