اسمگلنگ کے اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں چینی، گندم، آٹے اور یوریا کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اعلی سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پروزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک سے اشیاء ضروریہ کی بیرونِ ملک سمگلنگ کسی صورت قبول نہیں۔اسمگلنگ کے اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے۔اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے لائحہ عمل دو دن کے اندر پیش کیا جائے۔اسمگلنگ کسی بھی معاشرے کیلئے ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان موجودہ معاشی صورتحال میں قطعی طور پر اسمگلنگ برداشت نہیں کر سکتا۔وزیرِ اعظم نے اسمگلنگ کو روکنے کے حوالے سے سست روی سے کام لینے پر اظہارِ برہمی کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ خیبر پجتونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں چیک پوسٹوں کی تعدار بڑھائی جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کیلئے استعمال ہونے والے گوداموں کے خلاف فوری کاروائی کیجائے۔وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی بارڈر پر بہترین شہرت کے ایماندار افسران تعینات کیے جائیں۔کرپٹ اور اسمگلنگ میں ملوث افسران کو ہٹاتے وقت کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کیا جائے۔اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ضروری قانون سازی کیلئے مسودہ جلد پیش کیا جائے۔اینٹی اسمگلنگ کورٹس کو فوری طور پر فعال اور مؤثر بنایا جائے۔اینٹی اسمگلنگ کورٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائیاینٹی اسمگلنگ کورٹس میں اعلی شہرت یافتہ ججز کے ساتھ ساتھ پراسیکیٹورز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے۔ملک کو اربوں ڈالروں کا نقصان پہنچانے والوں کو قرار واقعی سزا دینگے۔چیف سیکرٹری صوبوں کے سرحدی اضلاع میں ان اشیاء کی طلب کے اعشاریے فراہم کریں تاکہ ان اضلاع میں رسد اس حد سے تجاوز نہ کرے۔اسمگلنگ کی روک تھام کے آپریشن کے دوران پکڑی جانے والی چینی اور یوریا کو بازار میں حکومت کے تعین شدہ نرخ پر فروخت کیا جائے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں چینی، گندم، آٹے اور یوریا کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اعلی سطحی جائزہ اجلاس ہوا۔