3 رکنی بنچ کا اپنی مرضی سے مسلط کرنا جوڈیشل مارشل لاء کا تاثر بنتا ہے، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (آن لا ئن) وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 3 رکنی بنچ کا اپنی مرضی کو مسلط کرنا جوڈیشل مارشل لاء کا تاثر بنتا ہے، جوڈیشل مارشل لاء سے متعلق بات کی بنیاد اداروں کی حدود ہے، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء سے متعلق جو بات ہورہی ہے اس کی بنیاد اداروں کی حدود ہے، انہو ں نے کہا جس قسم کی صورتحال ہے تمام جماعتیں اور قوم فل بنچ کا مطالبہ کررہے ہیں،3 رکنی بنچ ہر چیز کو روندتے ہوئے اپنی مرضی اور منشاء مسلط کررہا ہے، جب اس قسم کی صورتحال ہو تو پھر جوڈیشل مارشل لاء کے تاثر کو تقویت ملتی ہے، اسی طرح گورنر خیبرپختونخواہ غلام علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف الیکشن کی تاریخ دینی ہے،آئین قانون واضح ہدایات دیتا ہے کہ 90روز کے اندر الیکشن ہوں،ان کو 10مرتبہ سمجھایا تھا اسمبلیاں مت توڑیں،اداروں نے الیکشن سے متعلق جو رپورٹ دی وہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے پا س بھی ہے،گورنر خیبرپختونخواہ غلام علی نے کہاہے، صدر مملکت الیکشن سے متعلق تاریخ کے معاملے کوافہام تفہیم سے حل کریں، پی ٹی آئی کے ایم این ایز خود چاہتے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں،حال ہی میں وفاقی حکومت نے 18 ارب قبائلی اضلاع کیلئے منظور کرلئے ہیں، ہم ووٹرز کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے الیکشن کرائیں گے، انہوں نے کہا کہ یاد رہے قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے الیکشن کمیشن کو21 ارب دینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے، انہو ں نے کہا کہ شیخ رشید توابھیکہہ رہے کہ اگر ہار گئے تو نتائج نہیں مانیں گے،جب کہ نجی ٹی وی مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر اسٹیٹ بینک کا الیکشن کمیشن کو 21 ارب جاری کرنے کا معاملہ، قائمہ کمیٹی خزانہ نے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی، جس پر قومی اسمبلی نے رپورٹ منظور کرلی ہے، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے رپورٹ منظور کرنے کی تحریک پیش کی، قائمہ کمیٹی نے قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر فنڈز جاری نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارش پر قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے.