ایچ ای سی کی جانب سے 28 ارب روپیہ کمرشل بینکوں میں رکھنے پر پی اے سی برہم،انکوائری کا حکم

اسلام آباد (آن لائن) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے 28.68 ارب روپیہ کمرشل بینکوں میں رکھنے پر پبلک اکاونٹس کمیٹی شدید برہم انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایچ ای سی میں کرپشن تعلیمی نظام اور آئندہ نسلوں کی تعلیم کو شدید متاثر کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ڈی اے سی کے معاملات پی اے سی میں لانا قابل افسوس ہے۔ پیسہ اسائنمنٹ اکاونٹ کی بجائے کمرشل بینکوں میں کیوں رکھا گیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر شائستہ سہیل نے بتایا کہ پاکستان کے بعض دور افتادہ علاقوں میں نیشنل بینک کی عدم موجودگی باعث بنی کہ یہ پیسہ کمرشل بینکوں میں رکھا گیا۔ اس موقع پر رکن کمیٹی احمد حسین ڈاہر نے بتا یا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں 50کروڑ کا گھپلہ اسی وجہ سے ہوا کہ پیشہ کمرشل اکاونٹ میں رکھا گیا تھا، وزارت خزانہ بتائے کہ کس قانون کے تحت ایچ ای سی کو اجازت دی گئی کہ خطیر رقم کمرشل اکاونٹ میں رکھی جائے۔ آڈٹ حکام نے بھی موقف اپنا کہ خزانہ ڈو یژن نے جی ایف آر 95کی خلاف ورزی کی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی سے کہا کہ آپکے اپنے بیان میں فرق ہے۔ ایک جانب آپ نے کہا کہ یہ پیسہ نیشنل بینک کے اکاونٹ میں رکھا گیا، دوسری جانب آپ نے کہا کہ نیشنل بینک نہ ہونے کی وجہ سے یہ کمرشل بینکوں میں رکھا گیا۔ یو ایس ایڈ کی جانب سے ملنے والے خطیر رقم کے ضائع ہونے پر بھی کمیٹی نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔