اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ 2023 کے انتخابات صاف، شفاف اور غیر آئینی مداخلت سے پاک ہونے چاہئیں،عمران خان نے اپنے پونے چار سالہ دور اقتدار میں ستر سالہ تاریخ کا نوے فیصد قرض لیا ہے۔ ان قرضوں کی واپسی کا ہمارے بجٹ پر اتنا بوجھ ہے جس نے ہمارے ہاتھ باندھ دئیے ہیں،پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی انتہا پسند اور پولیس والوں کی ہڈیاں توڑنیوالی جماعت ہے۔منگل کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2018 تک پاکستان کا کاشتکار وافر مقدار میں گندم اگا رہا تھا جبکہ اب یہ حالات ہیں کہ ہمیں ہر سال اربوں ڈالرز کی گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ چار سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ وہ اجناس جنہیں ہم برآمد کرنے کا سوچ رہے تھے اب اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ انہی اجناس کی درآمد پر خرچ کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ سے مطالبہ ہے کہ موجودہ تناؤ کو حل کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ اجتماعی دانش سے انتخابات کے معاملے پر اپنا فیصلہ دے۔ آئین قومی اسمبلی کی خالی شدہ نشستوں پر 60 دنوں میں انتخابات کا حکم دیتا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے ان نشستوں پر اسٹے آرڈر دیا۔ وہ تنخواہ جو لی بھی نہیں گئی اسے زبردستی اثاثہ ثابت کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں بجلی کے منصوبوں پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ امید ہے ہمارے کئے گئیے اقدامات سے اس مرتبہ موسم گرما میں بجلی کے شارٹ فال کو کسی حد تک قابو میں رکھا جا سکے گا۔ عوام کی تکلیف بے حد ذیادہ ہے لیکن جب تک ہم اس بگاڑ کو درست نہیں کرتے تب تک حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا عالمی مالیاتی فنڈ سے موجودہ معائدہ پی ٹی آئی دور حکومت میں ہوا، ہمیں 2023 میں ایسے انتخابات چاہئیں جو ملک میں خوشحالی لے کر آئے۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا اس وقت ملک میں ایک آئینی اور معاشی بحران جاری ہے۔ نواز شریف کی نااہلی سے شروع ہونے والی سیاست میں غیر آئینی مداخلت اس بحران کا سبب ہے۔ 2018 کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کو ٹارگٹ کیا گیا۔ سینیٹ انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہمارے اْمیدواروں سے انتخابی نشان تک چھین لیا گیا۔ 2023 ہے انتخابات 2018 ہی کی طرح نہیں ہونے چاہئیں۔ 2023 کے انتخابات صاف، شفاف اور غیر آئینی مداخلت سے پاک ہونے چاہئیں۔بیک وقت چار صوبوں میں انتخابات کی قرارداد دونوں ایوانوں نے پاس کی ہے۔ سینیٹ میں اس قرارداد کا پاس ہونا معنی خیز ہے۔ توانائی بحران سے بچنے کے اقدامات کے متعلق خرم دستگیر نے کہا ہمارا اصل مسلۂ ہے کہ ہماری بجلی مہنگے ایندھن پر بنائی جاتی ہے۔ جب تک قابل تجدید ذرائع توانائی سسٹم میں داخل نہیں کئے جاتے تب تک یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی انتہا پسند جماعت ہے۔ پولیس والوں کی ہڈیاں توڑنے والی جماعت تحریک انصاف ہے۔ تحریک انصاف نے سیاست میں ہلڑ بازی کا سلسلہ شروع کیا۔ نواز شریف عدالتوں میں بغیر جتھوں کے پیش ہوتے رہے۔ 2014 میں بھی اسی صورتحال کا سامنا تھا۔ تشدد کا جواب دینا پڑے گا۔ سیاسی انتقام مسلم لیگ ن کے خلاف کیا گیا۔
Load/Hide Comments



