اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں پنجاب میں علیحدہ انتخابات کرانے کی مخالفت اور ملک میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی قرارداد منظور کر لی، ایوان میں موجود جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے قرارداد کی شدید مخالفت کی،اپوزیشن لیڈر نے قرارداد کو حکومت کا ایوان پر ڈاکہ قرار دیا۔سوموار کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی غیر موجودگی میں حکومت نے پورے ملک میں ایک ہی روز انتخابات کرانے اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات قبل از وقت کرانے کے خلاف قرار داد منظور کر لی قرارداد سینیٹر طاہر بزنجو،سینیٹر منظور کاکڑ،سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری،سینیٹر محمد قاسم،سینیٹر شفیق ترین،سینیٹر بہرہ مند تنگی،سینیٹر رانا مقبول،سینیٹر دلاور خان اور سینیٹر ہدایت اللہ خان کی جانب سے پیش کی گئی اس موقع پر سینیٹر طاہر بزنجو نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آئین کے مطابق پورے ملک میں انتخابات ایک ہی روز کرائے جائیں قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب میں علیحدہ سے انتخابات پورے ملک کے انتخابات پر اثر انداز ہونگے اس موقع پر انہوں نے کہاکہ اگر ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے،الزمات کی سیاست سے اور عدالتوں کے دروازے کھٹکٹانے سے سیاسی اور آئینی مسئلے حل ہوتے تو کب کے ہوچکے ہوتے۔انہوں نے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈر اختلافی معاملات کو حل کرنے کیلئے باہمی مشاورت سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے قرارداد پر ایوان کی رائے لی ایوان میں موجود جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس طریقہ کار پر قرارداد کی منظوری پر شدید احتجا ج کرتے ہوئے کہاکہ حکومت آئین کے مطابق انتخابات کرائے اور انتخابات ایک ہی دن کرانے کیلئے دیگر صوبوں میں حکومتوں کو بھی ختم کیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد انتخابات کے انعقاد کیلئے سیاسی قوتوں کے مابین مذاکرات کرائے جائیں انہوں نے قرارداد کی مخالفت کی اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ آج ایوان میں چوری چھپے ڈاکہ ڈالا گیا ہے سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کا حکم دیا ہے اور حکومت اس سے بھاگ رہی ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے ٹوکن واک آوٹ کے موقع پر حکومت نے یہ واردات کی ہے انہوں نے کہاکہ یہ سینیٹ کا ہال کہتا ہے کہ پاکستان کو خواہشات کی بجائے آئین کے مطابق چلایا جائے، ایوان بالا میں اپوزیشن کے ممبران اس قرارداد کو مسترد کرتے ہیں جوکہ چوری چھپے ایوا ن میں پیش کیا گیا ہے اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور آئین کے مطابق 14مئی کو کرائے جائیں۔انہوں نے کہاکہ اس سے قبل جو قراردادیں پیش کی گئی وہ بھی آئین کی خلاف ورزی تھی انہوں نے کہاکہ حکومت اس وقت شدید تکلیف میں ہے اور پارلیمنٹ کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاٹوکن واٹ آؤٹ ایک جمہوری طریقہ ہے اس دوران حکومت نے قرارداد منظور کی ہے حکومت نے اپوزیشن کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے پہلے حکومت نے عوام سے روٹی روزی چھینی ہے اور اب چوری چھپے قراردادیں منظور کی جارہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قرارداد کو دوبارہ پیش کیا جائے اس موقع پر وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اپوزیشن آداب کو ملحوظ خاطر رکھے اپوزیشن بات نہیں سنتی ہے اور ایوان کا بائیکاٹ کرتی ہے انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں موجود 9پارلیمانی جماعتوں کے سینیٹرز کی جانب سے مشترکہ قرارداد پیش کی گئی انہوں نے کہاکہ اپوزیشن چلے ہوئے کارتوس ہیں۔
Load/Hide Comments



