میرے خلاف سازش امریکا نہیں،پاکستان سے ہی کی گئی، عمران خان

لاہور(آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش امریکا نہیں،پاکستان سے ہی شہباز شریف کو لانے کیلئے کی گئی، ساری سازش باجوہ نے ایکسٹینشن کیلئے کی، بعد میں پتا چلا انہوں نے حسین حقانی کو میرے خلاف ہائر کیا، جیسے فارن فنڈنگ کیس ختم ہوا اسی طرح میرے خلاف توشہ خانہ کیس بھی ختم ہو جائے گا،ہماری حکومت کے آخری سال معیشت اوپر گئی، پاکستان ان ممالک میں شامل تھا جس نے کورونا کا بہتر مقابلہ کیا، موجودہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ ان خیالات کا اظہار عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں اپنی حکومت گرنے کا ایک سال مکمل ہونے پر پی ڈی ایم حکومت کیخلاف وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ آج سے ایک سال پہلے میں اپنی ڈائری اٹھا کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکلا، مجھے نکالنے کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش تھی، میرے خلاف سازش نکالنے سے ایک سال پہلے شروع ہوئی، میں مڈل ایسٹ کے ایک سربراہ کو مل رہا تھا تو اس نے مجھے سازش کے بارے بتایا، اس نے بتایا کہ تمہارا آرمی چیف تمہارے خلاف سازش کر رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میں بڑا حیران ہوا کہ ہم تو ایک پیج پر ہیں، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا کر سکتے ہیں، جب میں نے جائزہ لیا تو پھر پتا چلا کہ کس طرح کی سازش ہوئی، ایک کردار جو ماسٹر مائنڈ تھا اس کی آہستہ آہستہ سمجھ آئی، یہ میری جگہ شہباز شریف کو لانا چاہتے تھے، باجوہ کی ڈیل ہو چکی تھی، شہباز شریف کو کیسز میں سزا ہونے والی تھی۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے وائٹ پیپر جاری کیا ہے، وائٹ پیپر دکھانے کا مقصد ایک سال میں ہونے والی تباہی بیان کرنا ہے، ایک بند کمرے میں تھوڑے سے لوگوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا، ایک سال پہلے پاکستان کہاں کھڑا تھا اور آج کہاں کھڑا ہے، 2018 میں حکومت سنبھالی تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، ہمیں دو سال کورونا سے نمٹنے میں لگ گئے، ہم نے جیسے کورونا سے نمٹا دنیا نے اس کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ٹیرارزم سے ٹورازم پر آگئے تھے لیکن حالات دوبارہ خراب ہو گئے، شکر ہے ان کو تب حکومت نہیں ملی ورنہ آج ملک بالکل تباہ ہو چکا ہوتا، انہوں نے آتے ہی پہلے نیب پھر ایف آئی اے کو تباہ کیا، توشہ خانہ کیس الٹا ان پر پڑ جائے گا، انہوں نے جو گاڑیاں چوری کی ہیں وہ سامنے لے کر آئیں گے، ہمیں میڈیا سے بلیک آؤٹ کر دیا گیا، یہ کہ ہم نے میڈیا پر پابندیاں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں جتنا میڈیا آزاد تھا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، جب سے ہماری حکومت گئی ہے تو میڈیا کو کنٹرول کیا گیا، نامعلوم افراد کی جانب سے میڈیا مالکان کو دھمکیاں دی گئیں کہ عمران خان کو بلیک آؤٹ کرو، یہ آزادی اظہار رائے سے اتنا ڈرے ہوئے ہیں کہ میڈیا پر پابندیاں لگا دی گئیں، پی ٹی ا?ئی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا.