اسلام آباد(آن لائن) ملک بھر میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کی بڑی تعداد تاحال معاوضوں کی وصولی سے محروم ہے،سیلاب اور بارشوں سے ملک بھر میں 1650اموات ہوئی جن میں سے ابھی تک 1ہزار کے قریب جاں بحق افراد کے ورثاء کو ادائیگیاں کی گئی جبکہ 6سو سے زائد محروم ہیں،جاں بحق افراد افرادکی وراثت کے کئی دعویدار سامنے آنے کی وجہ سے زیادہ تر ادائیگیاں نہیں کی جاسکی ہیں۔این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والے دستاویزات کے مطابق گذشتہ سال ملک میں آنے والے بدترین سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے چاروں صوبوں سمیت آازد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 1650افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی تھی جاں بحق افراد کے ورثاء کیلئے حکومت پاکستان نے 10لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کیلئے1ارب روپے سے زائد مختص کئے گئے دستاویزات کے مطابق ابھی تک 1ہزار13جاں بحق افراد کے قانونی ورثاء کو مالی امداد کی ادائیگیوں کے صوبائی ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹیز کو چیک جاری کئے گئے جبکہ 6سو37جاں بحق افراد کے ورثاء کو ابھی تک معاوضے ادا نہیں کئے جاسکے ہیں۔دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں سیلاب اور بارشوں سے 48افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 44افراد کے ورثاء کو معاوضے ادا کئے گئے گلگت بلتستان کے 22جاں بحق افراد کو معاوضوں کے چیک جاری کئے گئے بلوچستان میں 290افراد جاں بحق ہوئے اور ابھی تک 187جاں بحق افراد کے لواحقین کو چیک جاری کئے گئے ہیں خیبر پختونخوا میں 269جاں بحق افراد میں سے 216کے ورثاء کو چیک جاری کئے گئے جبکہ 53جاں بحق افراد کے دستاویزات کی تصدیق تاحال نہیں ہوسکی ہے اسی طرح پنجاب میں جاں بحق 118میں سے 115افراد کے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے چیک جاری کئے گئے دستاویزات کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں اموات کی مجموعی تعداد 901تھی جن میں سے ابھی تک صرف428جاں بحق افراد کے قانونی ورثاء کو چیک جاری کئے جاسکے ہی جبکہ 473جاں بحق افراد کے ورثاء معاوضوں سے محروم ہیں۔ این ڈی ایم اے حکام کے مطابق جاں بحق افراد کے ورثاء کو معاوضوں کی ادائیگی میں سب سے بڑی رکا وٹ قانونی طور پر ورثاء کی نامزدگی ہے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بعض کیسز میں جاں بحق افراد کے قانونی ورثاء میں ایسے رشتہ داروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی طور بھی قانونی ورثاء میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔
Load/Hide Comments



