فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوجائیگا، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب،کے پی کے انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ، اگرفل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائیگا،اس معاملے پر 13رکنی فل کورٹ بٹھایا جائے جو تمام معاملات حل کرے ، انتخابات کا طریقہ کار آئین میں طے ہے، ملک بھر میں قومی و صوبائی انتخابات ایک ہی وقت پر ہونے چاہئے۔اقلیتی فیصلہ نافذ نہیں ہوناچاہے، جمعرات کو اسلام آباد میں بین الااقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ نجاب اسمبلی کی تحلیل متنازعہ طریقے سے ہوئی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر پنجاب کو بھیجی جس پر گورنر نے سمری پر دستخط کرنے سے انکا ر کر دیا اور اسمبلی 48گھنٹے کے بعد خود بخو د تحلیل ہو گئی جس کے بعد معاملہ عدالت میں چلا گیا،کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے پٹیشنز زیر سما عت ہیں، عدالت نے مشاورت سے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کا کہاالیکشن کمیشن نے نئی تاریخ کا اعلان کیا تو تنازع کھڑا ہو گیا، الیکشن کمیشن بااختیار اورخود مختار ادارہ ہے۔ آئین و قانون کے تحت ملک بھر میں قومی و صوبائی انتخابات ایک ہی وقت پر ہونے چاہہے،انتخابات کا طریقہ کار آئین میں طے ہے، ازخودنوٹس کیس میں سپر یم کورٹ کے دومعز ز جج صاحبان نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کردیا ہے اور ان ججز صاحبان نے بنچ سے علحیدگی اختیار کر لی ہے، چارججز نے پٹیشنز خارج کیں اور 2 نے کیس سننے سے انکار کیا،یکم مارچ کو کیس کا فیصلہ آیا تو ہمارا موقف تھا کہ فیصلہ 3کے مقابلے میں 4سے خارج ہو ا، اس کورٹ آرڈر کو پہلے سرکلر پھر 6رکنی بنچ نے مسترد کیا،عدالت نے کسی سیاسی جماعت کا موقف نہیں سنا اور نہ مقدمے میں فریق بنایا،سنیئر ججز کو بنچ سے دوررکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے معاملے پر قانون سازی کا عمل جاری ہے، سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے معاملے پرپارلیمنٹ نے بل کی منظوری دی ہے لیکن فل کورٹ کے اسمبلی کے بل کو بھی اہمیت نہیں دی گئی،نتخابات کے معاملے پر 184/3 پرجسٹس فائزعیسیٰ کا واضح فیصلہ موجود ہے، اگرفل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائیگا۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اس معاملے پر 13رکنی فل کورٹ بنایا جائے تو بہتر ہے، ججزمیں اتحادنہ ہونے پرادارے کی ساکھ متاثرہورہی ہے، 13رکنی فل کورٹ بیٹھے،تمام معاملات حل کرے، عدالت اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال نہیں ہونی چاہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو ا جس میں عدالتی فیصلے پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا گیا، کابینہ اجلاس میں اکثریت کی رائے یہ تھی کہ اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی ماہرین سے مشورہ لیا جب کہ قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست کی۔