اسلام آباد (آن لائن) وزیر داخلہ راناثناء اللہ نے کہا ہے ملک بھر میں انتخابات ایک ہی وقت پر ہونے چاہئیے،دو صوبوں کے الیکشن ملک کو سیاسی بحران، انارکی اور افراتفری کی طرف لے جائیں گے،حالات انارکی کی طرف گئے تو آئین میں ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے۔ سیاسی ومعاشی بحران کے بعد عدالتی بحران کی بھی بنیاد فتنے خان نے ڈالی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن سمیت تما م اتحادی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں قومی و صوبائی انتخابات ایک ہی وقت پر ہوں،دو صوبوں کے الیکشن ملک کو سیاسی بحران، انارکی اور افراتفری کی طرف دکھلیں گے، حالات اس طرف گئے تو حکومت کے پاس ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے، آئین میں ایمرجنسی کا آرٹیکل موجود ہے، وہ آرٹیکل کہیں گیا نہیں۔ بلاول نے ایمرجنسی یا مارشل لاء کے امکان کی بات کی ہے اس کا ایک جواز ہے،جب ہر اہم کیس وہی تین جج سنیں گے تو پھر جواز پیدا ہوجاتا ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہر کیس میں یہی تین ججز کیوں، ہر طرف سے فل بینچ کا مطالبہ ہے تو اسے مان لینے میں کیا حرج ہے، انہوں نے مزید کہا کہ توقع کرتے ہیں عدالت ایسا فیصلہ دیگی جو ملک کو سیاسی بحران سے نکالے اور ملک بہتر انداز میں آگے بڑھے، 3 رکنی بینچ پر وزیراعظم اور وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں اپنا موقف پیش کیا۔پی ٹی آئی نے بھی کہا ہے فل بینچ پر کوئی اعتراض نہیں۔اس معاملے کا فیصلہ فل کورٹ کے ذریعے کیا جائے۔سپریم کورٹ کے اندر سے بھی معزز ججز نے آواز اٹھائی۔چار ججز نے اس سوموٹو نوٹس کو مسترد کیا ہے، الیکشن کیس کا فیصلہ فل کورٹ کے ذریعے کیا جائے، امید ہے سپریم کورٹ عوام کی آواز کے مطابق ہی فیصلہ کرے گی، صرف انصاف ہونا نہیں چاہیے، انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف پوری قوم اور بارز کا موقف ہے۔ عمران خان نے 10 سال کی محنت سے سیاسی بحران پیدا کیا۔ ایک فتنے نے بڑی محنت سے ملک کو بحران کی طرف دھکیلا،ملک سیاسی بحران کے ساتھ معاشی بحران کا بھی شکار ہو چکا ہے، سیاسی،معاشی بحران کے بعد عدالتی بحران کی بھی بنیاد فتنے خان نے ڈالی، اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوریت ہی تمام مسائل کا حل ہے، گزشتہ تین سال سے ملک میں سول مارشل تھا۔
Load/Hide Comments



