سپریم کورٹ کو اپنے ادارے میں اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو بھی سننا چاہیے،اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے ادارے میں اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو بھی سننا چاہیے، اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کے سامنے اپنی معروضات پیش کیں، انہوں نے کوشش کی کہ ادارے کی تکریم، عزت اور تقدس کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو پوری قوم کے لیے قابل قبول ہو، تاکہ بعد میں ادارے پر انگلیاں نہ اٹھیں، ہمیں تاریخ کے جھرنکوں میں جھانکنا چاہیے، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مؤقر ترین ادارے نے کب کب آئین کی پامالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے، آوازوں کو دبا کر، نظر انداز کرکے عجلت میں فیصلہ کیا جائے گا تو تاریخ اسے کالے صفحوں پر لکھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کب کب یہ ادارہ ملک کی تقدیر لکھ سکتے تھے، انہوں نے اپنے قلم کے ساتھ سیاہ تحریریں لکھیں، یہ وہ ادارہ ہے جہاں ایک آمر 3 ماہ مانگنیگیا، اسے 3 سال بلکہ 9 سال دے دیئے گئے، آج تاریخ لکھنے کا دن ہے، ادارے اپنے کردار اور اپنے طرز عمل سے اپنی عزت کرواتے ہیں، ادارے اپنے فیصلوں کی وجہ سے جانتے جاتے ہیں، جب ادارے کے اندر سے آوزایں اٹھ رہی ہیں، جب ججز یہ بات کر رہے ہیں، ان آوزوں کو دبا کر، نظر انداز کرکے عجلت میں فیصلہ کیا جائے گا تو تاریخ اسے کالے صفحوں پر لکھے گی۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ فیصلہ سنانے کے 30 منٹ کے اندر اندر میں نے اْس وقت کے اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی صاحب نے یہ مؤقف اپنایا کہ یہ کیس 3 کے مقابلے میں 4اکثریتی ججز کی رائے سے خارج ہو گیا۔ 4 کے مقابلے میں 3 کے اکثریتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد جب کیس کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو ہم نے استدعا کی کہ فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اپنے ادارے میں اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو بھی سننا چاہیے۔وزیر قانونی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکمران اتحاد کی ایک طویل مشاورت ہوئی، 6 روز سے درخواست دی ہے کہ ہم اس میں فریق ہیں ہمیں فریق بنایا جائے، مطالبہ کیا گیا سپریم کورٹ کی کارروائی میں شفافیت لائی جائے، آج سیاسی جماعتوں کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے تو ناراضی کا اظہار کیا گیا، سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے لیکن اس کو ایک ایگزیکٹو آرڈر سے معطل کر دیا گیا، اس معاملے پر قانونی حلقوں میں شدید بے چینی ہے۔ان کا کہنا تھا عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے باوجود بینچ معاملات کو آگے لے کر گیا، ہماری گزارش تھی کہ ایک ایسا بینچ بنایا جائے جو سب کو قابل قبول ہو، تین کے مقابلے میں چار ججز کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے، ہمارے وکلاء نے کہا کہ سماعت سے پہلے ہمارے اعتراضات کو سنا جائے، مسلسل درخواستیں دینے کے باوجود ہمیں فریق نہیں بنایا جا رہا، ہم پہلے فریق تھے لیکن معلوم نہیں ہمیں کب فریق ماننے سے انکار کر دیا گیا۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ادارے کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور ان آوازوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان ججز پر مشتمل 6 رکنی بینچ بنا دیں جو اس سے پہلے بینچ میں شامل نہیں تھے، اب خبر آ گئی ہے کہ فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے اور آج سنایا جائے گا۔