مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم جماعتوں نے آئین پر حملے کا آغاز کردیا،شاہ محمود قریشی

کراچی (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم جماعتوں نے آئین پر حملے کا آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ 42 گھنٹوں میں مسلم لیگ ن کی پوسٹ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ ججز پر دباؤ ڈالنے کے لیئے ان کو حراسان کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ 73 کے آئین پر پی پی پی فخر کرتی ہے۔ بھٹو کے نواسے نے بھوٹو کے آئین پر حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ آج اس آئین کو ضرب لگانے جارہی ہے۔ نواسے مخالف قوتوں کے ساتھ مل جائے تو کیا ہوگا، یہ بڑا سفر ہے بھٹو سے زرداری کا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، حلیم عادل شیخ، مبین جتوئی، خرم شیر زمان، آفتاب صدیقی، ارسلان تاج، فردوس شمیم نقوی، محمود مولوی، لال مالہی، جے پرکاش، شہزاد قریشی، شاہنواز جدون سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف نے سینٹ کے فلور پر دعوت دی۔ شہباز کہتے ہیں پاکستان کو سیاسی کشمکش سے نجات دلانے کے لیئے بیٹھ کر بات چیت کریں۔ لیکن اب کہتے ہیں کہ عمران خان سے بات نہیں ہوگی۔ ہم نئے انتخابات کے حق میں آمادگی کیے ہوئے ہیں تو ان کے اسپیکر صاحب راستے میں خلل پیدا کررہے ہیں۔ امتحان سیاسی جماعتوں کا ہے۔ کل اہم کیس کی پیش رفت ہونی ہے۔ ہفتے کے روز اٹارنی جنرل کو بلا کر سوالات کیے گیے لیکن وہ ٹھوس جوابات نہ دے سکے۔ پیر کو فائننس سیکریٹری اور سیکریٹر ڈیفنس کو بلانے کا ارادہ کیا گیا۔ ہماری پٹیشن کا مقصد ہے کہ 90 دن میں انتخابات ہوں۔ الیکشن کمیشن سے فیصلے کو تسلیم کیا جبھی شیڈول دیا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے نومینیشن میں حصہ لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف اور بلاول آپ میں حوصلہ ہونا چاہیے تھا کہ امیدواران کے دستاویزات جمع نہ کرواتے۔ اب ان پر عمران خان کا خوف طاری ہو رہا ہے۔ الیکشن میں تاخیری سے لیئے ہر ہربہ اپنایا گیا ہے۔ ان کے ہیلے بہانے جاری ہے۔ کیا جو قانون یہ بنانا چاہتے ہیں اس کے لیئے کیا قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے؟ ہم سمجھتے ہین کہ وہ آئینی ترمیم کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ ٹرائکورمی کا مطلب ہے کہ ایگزیکٹو کا اپنا کردار ہے اور جوڈیشری کا اپنا کردار ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ وہ جماعتیں جو آئین کشنی کرنا چاہتی ہیں، وہ خاموشی سے کام نہ چلائے۔ پیپلز پارٹی کی خاموشی نہیں چلے گی۔