اسلام آباد(آن لائن) جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہنگامہ آرائی پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی کے متعدد رہنماوں و کارکنوں کیخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماو سمیت متعدد کارکنوں کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کیا گیا،مقدمہ میں علی امین گنڈاپور،مرادسعید،شبلی فراز،عمرایوب،حسان نیازی،حماداظہر،خرم نواز،فرخ حبیب،عامرکیانی،کرنل ریٹائرڈعاصم،عمرسلطان اوراسدقیصرکو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے میں کہاگیا ہے کہ ملزمان نے جوڈیشل کمپلیکس کوچاروں طرف سے گھیراؤ کیا،ملزمان نے جوڈیشل کمپلیکس کے شیشے بھی توڑے،سرکاری گاڑیوں اورپولیس ملازمین کی موٹرسائیکلیوں کوآگ لگائی گئی،ملزمان وائرلیس سیٹ،پستول،نقدی بھی چھین کر لے گئے،پولیس ملازمین سے8اینٹی رائٹ کٹ بھی چھینی گئیں،دوسری جانب سرکاری املاک اور پولیس کی گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کی رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوا دی گئی، رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مظاہرین کی جانب سے مجموعی طورپر 15 پولیس کی گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچایا گیا جس میں دو گاڑیوں اوردو موٹرسائیکلوں کو آگ لگائی گئی ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مظاہرین نے تھانہ لوہی بھیر کی پک اپ اور سپیشل برانچ کی بم ڈسپوزل سکوارڈ کی گاڑیوں کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا جبکہ اسی طرح تھانہ مارگلہ کے دو موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگائی، 12 گاڑیاں جن میں دو قیدیوں کی بسوں جبکہ فیصل آباد کانسٹیبلری کی دو بسوں اور ایک چکوال پولیس کی بس کے شیشے توڑے گئے ہیں اسی طرح دیگر پولیس کی گاڑیوں پر ڈنڈوں کے وار کر کے اور پتھراو کر کے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی پولیس، ایف سی پر پٹرول بموں سے چاروں اطراف سے حملے کئے گئے اور ٹیئر گیس شیلنگ کی گئی جن کے خول پولیس نے جمع کر لئے ہیں جن کی شناخت بھی کروائی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے یہ شیل کہاں سے حاصل کیے یا پھر یہ افغانستان سے سمگل شدہ ہیں؟۔
Load/Hide Comments



