لاہور (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب کی نگران حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے چیف جسٹس سے گزارش کی ہے کہ وہ نوٹس لیں اور کوئی ایکشن لیں تاکہ عوام کو حوصلہ ہو کہ عدلیہ ان کو بچائے گی، مافیا عدلیہ پر بھرپور طریقے سے حملہ آور ہے، عدلیہ کو کنٹرول کرنے کیلئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، یہ پی ٹی آئی کو کمزور کر کے چوروں کو الیکشن جتوانا چاہتے ہیں۔لاہور میں پارٹی رہنما عثمان ڈار اور جاوید علی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج میں ایک ہنگامی میڈیا ٹاک کر رہا ہوں کیونکہ یہ ایک ایسی خوف ناک، دردناک اور تکلیف دہ چیز ہے اور کل کے لیے انتظار نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ یہاں طاقت ور کو قانون اور آئین کی کوئی فکر نہیں ہے، آئین کا آرٹیکل 14 واضح طور پر کہتا ہے کہ ہر انسان کی عزت کی حفاظت کی جائے گی لیکن جاوید علی کے ساتھ جو ہوا وہ سننا چاہیے۔جاوید علی کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ انہیں عثمان ڈار نے گریڈ 4 چوکیدار کی نوکری دلائی اور ان کو پولیس نے اٹھایا، اس کے بعد نامعلوم افراد نے اٹھایا۔ جاوید علی سے 164 کا بیان عثمان ڈار کو کرپشن کے کیسز میں پھنسانے کیلئے دلوایا گیا، چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ وہ جاوید علی معاملے پر ازخود نوٹس لیں اور پتا چلائیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔اس موقع پر جاوید علی نے بتایا کہ میں چوکیدار کی نوکری کرتا ہوں اور مجھے تنخواہ کے لیے بلایا گیا اور میں وہاں گیا تو صبح 11 بجے سے 3 یا ساڑھے تین بجے بٹھایا گیا اور پھر 4 بجے کے قریب 7 سے 8 پولیس والے آئے اور پہلے ہتھکڑی اور پھر آنکھوں پر پٹی باندھتے ہیں اور پھر پرائیویٹ گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقامپر لے جایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ مانو عثمان ڈار کو پیسے دیے ہیں، جب نہیں مانا تو کہا گیا اس کی بیوی اور بچے کو اٹھاؤ اور برہنہ کرکے ویڈیو بناؤ اور فیس بک پر جاری کرکے بلیک میل کرو اور جب میری فیملی آئی تو میں نے ان سے کہا بتاؤ کیا کرنا ہے تو پھر انہوں نے کہا کہ 164 کے تحت بیان دو اور کہو پیسے لے کر عثمان ڈار کو دیے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جاوید علی کی باتوں کی تصدیق ہر طرح سے کرسکتے ہیں اور یہ میرے سامنے قرآن پر ہاتھ رکھنے کے لیے تیار تھے، ان سے 164 کا بیان عثمان ڈار کو کرپشن کے کیسز میں پھنسانے کے لیے دلوایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی عدلیہ اور چیف جسٹس سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت کون کرے گا، جس جج نے شہباز گل کو تشدد کے بعد واپس جیل بھیجا تو غصے میں کہا تھا کہ ہم قانونی کارروائی کریں گے، جس پر توہین عدالت کا نوٹس ہوا لیکن کسی نے زیر حراست تشدد پر کچھ نہیں کیا۔عمران خان نے کہا کہ جب مجھے گولیاں لگیں تو اس وقت چیف جسٹس سے مخاطب ہوا کہ جنہوں نے مجھے قتل کی کوشش کی ہے وہ سارے اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پنجاب کی نگران حکومت ہے، ’ایک بددیانت، ایک گھٹیا چیف الیکشن کمشنر جو اس ملک کی تاریخ میں نہیں آیا، شرم نہیں آئی غیرجانب دار نگران یہ حرکتیں کرتا ہے، یہ غیرجانب دار نگراں کے نیچے ہو رہا ہے‘۔عمران خان نے کہا ہے کہ مافیا عدلیہ پر بھرپور طریقے سے حملہ آور ہے، مریم نواز جلسوں میں آڈیو وڈیو ٹیپس چلا رہی ہیں، عدلیہ کو کنٹرول کرنے کیلئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، یہ پی ٹی آئی کو کمزور کر کے چوروں کو الیکشن جتوانا چاہتے ہیں۔
Load/Hide Comments



