اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ٹی انڈسٹری کے مسائل کے حل اور حکومت اور شعبے کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو آئی ٹی برآمدات سے حاصل آمدن پاکستان لانی چاہیئے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے فروغ کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ جس میں وزراء خزانہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مشیر احد چیمہ، معاونین خصوصی طارق باجوہ، جہانزیب خان، سید فہد حسین، شزا فاطمہ کے علاوہ اعلی سرکاری افسران اور پاکستان کے آئی ٹی انڈسٹری کے نمائندگان نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے حکومت اور آئی ٹی انڈسٹری کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ اور آئی ٹی انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کی جس میں آئی ٹی انڈسٹری کے نمائندگان، اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ، وزارت آئی ٹی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان شامل ہونگے، اجلاس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت زیادہ استعداد ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کے ٹیلنٹ اور استعداد کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی برآمدات کو اگلے تین سال میں 2.6 ارب ڈالر سے 15 ارب ڈالرز تک بڑھانے کے لئے عملی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے ایکسپورٹرز جنہوں نے آئی ٹی ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافے کے لیے کردار ادا کیا انھیں حکومتی سطح پر سراہا جائے گا۔ آئی ٹی انڈسٹری کے نمائندگان نیاجلاس کو اپنے آپریشنل مسائل سے آگاہ کیا اور ان مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے آئی ٹی انڈسٹری کو اپنی برآمدی آمدن پاکستان لانے کی ترغیب دیتے ہوئے آئی ٹی انڈسٹری کے مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی، وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس حوالے سے مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں آئی ٹی پروفیشنلز کی تعداد 6 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کرنے کے لئے ایچ ای سی، جامعات اور تربیتی ادارے ترجیحی بنیادوں پر کام کریں۔ وزیراعظم نے آئی ٹی نصاب کو آئی ٹی انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔
Load/Hide Comments



