صحبت پورہ(آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ابھی بھی کئی سو ارب روپے چاہئیں، 9 جنوری کو جنیوا کی میٹنگ میں ڈونرز کانفرنس کی صدارت کروں گا، مہنگائی عروج پر ہے اس بات میں کوئی شک نہیں لیکن حکومت جب حکومت سنبھالی تو حالات انتہائی مخدوش تھے، آئی ایم ایف سے معاہدہ ٹوٹ چکا تھا، سابق حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہم سستی ترین گیس نہیں خرید سکے۔ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے صحبت پورکے دورے پر مقامی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے خود ہمت کرنا ہوگی، ایثار اور قربانی کے جذبے سے آگے بڑھنا ہوگا، ابھی بھی سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے کئی سو ارب روپے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ آج بہت ہی خوشی کا دن ہے، صحبت پور کا میرا یہ دوسرا دورہ ہے، پہلے میں یہاں آیا تو یہ پورا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، خوراک اور دیگر اشیا پہنچانا آسان نہیں تھا، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دیگر دن رات کام کررہے تھے، میں نے اس طرح کا سیلاب اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا، سندھ، بلوچستان، میدانی علاقے ہر جگہ پانی تھا۔انہوں نے کہا کہ خوف آتا تھا کہ کس طرح ان متاثرین کی مدد کریں گے، جن حالات میں ہم نے حکومت سنبھالی تھی آئی ایم سے معاہدہ ٹوٹ چکا تھا۔سندھ، جنوبی پنجاب سمیت گلگت بلتستان میں ہزاروں لو گ اب بھی امداد کے منتظر ہیں، سیلاب سے تقریباً10لاکھ گھر پانی میں ڈوب چکے ہیں، بلوچ، پٹھان،سندھی یا پھر پنجابی یہ سب کا پاکستان ہے، وفاق اگر بلوچستان کو فنڈز دیتا ہے تو یہ عوام کا حق ہے،دو ماہ میں افسران نے سیلاب زدگان کے سلسلے میں جو محنت کی وہ قابل ستائش ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے میں مزید اچھے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ابھی بھی کئی سو ارب روپے چاہئیں، 9 جنوری کو جنیوا کی میٹنگ میں ڈونرز کانفرنس چیئر کروں گا۔ برادر ممالک کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملائشیا کے وزیراعظم سے بھی کل گفتگو کی ہے، ملائشین وزیراعظم سے گفتگو کرکے لگا کہ خاندان کا کوئی فرد بات کر رہا ہے، ملائشین وزیراعظم نے مجھ سے اردو میں بات کی ۔
Load/Hide Comments



