خاندانوں میں چھوٹی موٹی اونچ نیچ چلتی رہتی ہے، اچھے لوگ بڑوں کی بات کو تسلیم کرتے ہیں

راولپنڈی (آن لائن) لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے بار اور بنچ کو ایک خاندان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خاندانوں میں چھوٹی موٹی اونچ نیچ چلتی رہتی ہے لیکن اچھے لوگ بڑوں کی بات کو تسلیم کرتے ہیں عدلیہ کے امتحانی سسٹم میں موجود خامیاں دور کر دی گئی ہیں پنجاب جوڈیشری کی 700خالی آسامیوں پر بھی بتدریج تقرریاں کی جائیں گی جن پر میرٹ کو اولین ترجیح ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کی رات جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا اس موقع پر چیف جسٹس نے اولڈ کہچری میں وکلا کے لئے دو نئے چیمبر بلاکس کا بھی افتتاح کیا ان بلاکس کو جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی اور جسٹس سردار طارق مسعود کے ناموں سے منسوب کیا گیا نئے بلاکس میں وکلا کے لئے مجموعی طور پر 63 چیمبر بنائے گئے ہیں تقریب میں جسٹس صداقت علی خان جسٹس مرزا وقاص رؤف۔جسٹس شہزاد گھیبہ سیشن جج راولپنڈی سمیت ڈسٹرکٹ بار کے صدر ارشد مجید ملک، جوائنٹ سیکرٹری محمد شیعب کے علاوہ وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ بار اور بنچ ایک ہی گھر کے افراد اور خاندان ہیں،بار ممبران جوڈیشری کو بڑا بھائی تصور کرتے ہیں میرا اور آپکا رشتہ ایک فیملی کا ہے،ہم ایکدوسرے سے جدا ہو کر نہیں رہ سکتے خاندانوں میں چھوٹی موٹی اونچ نیچ چلتی رہتی یے،ہمین بڑے بھائی کی بات کو تسلیم کرنا چاہئیے ہمارے لئے لازم و ملزوم ہیں ایکدوسرے کا ساتھ دیں،ہم مل کر لوگوں کے مسائل سنتے اور انکا حل نکالنا ہے ہمیں احترام کا رشتہ قائم رکھتے ہوئے اس سفر کو آگے بڑھانا ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے امتحان کیسسٹم میں کچھ کمزوریاں تھیں جو ہم نے دور کی ہیں پنجاب میں سول جوڈیشری میں سات سو نشستیں خالی پڑی ہیں خواتین کی بار روم کے لئے فنڈز جاری کیے ہیں.