قومی اسمبلی اجلاس: خواجہ محمد آصف کی وائس چانسلر کو ڈکیت کہنے پر ایوان میں معذرت

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میری تقریر کرپشن کے خلاف تھی اساتذہ کی دل آزاری ہوئی تو میں معافی مانگتا ہوں. جس پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ اساتذہ کی عزت ہمارے دلوِں میں ہے۔میں نے وائس چانسلر کو ایوان میں مدعو کیا۔اساتذہ کی عزت کرتے ہیں ڈاکو کا لفظ کارروائی سے حزف کرتا ہوں۔جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس ا سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں خواجہ آصف نے کہاکہ ہماری درسگاہیں کرپشن میں شامل ہیں ملک میں کرپشن عام ہوگئی ہے اور لوگوں نے کرپشن کو قبول کرلیا ہے۔درسگاؤں میں اخلاقی تربیت ہونی چاہیے درسگاؤں میں زیادہ سیاست ہے۔ میری تقریر کرپشن کے خلاف تھی اساتذہ کی دل آزاری ہوئی تو میں معافی مانگتا ہوں۔گر یہ شعبہ بھی ملک کے باقی شعبوں کی طرح کرپشن سے پاک نہیں ہے۔ میرا تقریر میں کرپشن پر زور تھا مگر اس دوران میں وائس چانسلرز سے متعلق ڈاکو کہہ کر تجاوز کرگیا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے جزیرے میں سے ایک تعلیمی ادارے بھی ہیں، اسی تناظر میں بات کی۔ سپیکر نے کہاکہ اساتذہ کی عزت ہمارے دلوِں میں ہے۔میں نے وائس چانسلر کو ایوان میں مدعو کیا۔اساتذہ کی عزت کرتے ہیں ڈاکو کا لفظ کارروائی سے حزف کرتا ہوں۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔یہاں ایک جمہوری حکومت آپ نے ہٹایا کل جو کراچی میں کھیل کھیلا گیا جمہوریت کو قتل کیا گیا اکثریت کو اقلیت میں بدلا گیا۔30ارکان ایک پارٹی کے چیئرمینوں کو یرغمال بنایا گیا۔ 9لاکھ والے ہار جاتے ہیں اور 3لاکھ والے میئر بن جاتے ہیں۔تقریر کے دوران سپیکر نے مولانا عبدالاکبر چترالی کا مائیک بند کیا اور شاہدہ اختر علی کا مائیک آن کردیا ایم کیو ایم کے رہنما صابر حسین قائم خانی نے کہاکہ سپیکر کے حادثے کی خبر پر افسوس ہوا۔اللہ آپ کو سلامت رکھے پیپلز پارٹی کی شاہدہ رحمانی نے کہا کہ جھوٹ اور منافقت کی سیاست کو رد کرتے ہیں الزمات نہ لگائے جائے ن لیگ کی رہنما رومینہ خرشید عالم نے کہا کہ ہر پاکستانی محبت وطن ہے یہاں ہر کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام۔کرنے کے لیے رشوت لیتے ہیں۔شوگری ڈرنکس پر ٹیکس لگایا جانا چاہیے پیپلزپارٹی کے رکن سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کہاکہ وزیراعظم نے 100ارب سیلاب کے لیے اعلان کیا تھا مگر وہ پیسے نہیں ملے ہیں بے نظیر انکم سپورٹ کے صرف پیسے ملے ہیں۔سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ابھی تک پیسے نہیں ملے ہیں جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کیا جائے۔سیلاب میں 80فیصد کا این جی اوز اور 20فیصد سرکار نے کام کیا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے۔ فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلئے ہم نے کام کیا ہے یہ صوبائی معاملہ ہے اس پر صوبوں سے ملکر کام کریں گے۔