ملک معاشی طور پر کھڑا ہوا تو الیکشن اکتوبریا نومبر میں ہونے چاہئیں،راجہ ریاض

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہا ہے کہملک معاشی طور پر کھڑا ہوا تو الیکشن اکتوبریا نومبر میں ہونے چاہئیں، موجودہ معاشی تباہی کی وجہ گزشتہ حکومت کی نا اہلی ہے،گزشتہ حکومت نے ہر شعبے میں تباہی کی ہوئی تھی جس کے اثرات نظر آ رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ہی کسی جماعت میں جانے کا فیصلہ کروں گا،اپنے ارکان کو اعتماد میں لے کر سیاسی مستقبل بارے کوئی حتمی فیصلہ کروں گا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ر اجہ ریا ض نے کہا کہ میں نے بجٹ سے متعلق حکومت کی کہیں بھی تعریف نہیں کی،میں نے یہ نہیں کہا کہ حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا ہے، کاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تعریف کی۔انہوں نے کہا مسلم لیگ ن نے گزشتہ حکومت کی معاشی تباہی کا بوجھ اٹھایا ہے۔مسلم لیگ ن نے قربانی دے کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔ ملک معاشی طور پر کھڑا ہوا تو الیکشن اکتوبریا نومبر میں ہونے چاہئیں۔ راجہ ریاض نے کہا کہ ملک کو معاشی طور پر کھڑا کرنے کے بعد الیکشن ہونے چاہئیں۔سب سے پہلے ملک اور ریاست ہے، الیکشن تو آنے جانے والی بات ہے۔اپوزیشن لیڈر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 9مئی کے واقعات کے بعد میں تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہوں گاکیونکہ9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، جناح ہاؤس پر حملہ، فوجی تنصیبات اور شہیدوں کی یادگاروں کی بے حرمتی دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس نہیں کی، ٹی وی شو میں پارٹی چھوڑنے کا کہا تھا۔پیپلز پارٹی چھوڑنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ خواجہ سعد رفیق سے صلح ہو گئی ہے اب وہ میرے بھائی ہیں.