اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے ای او بی آئی کو چھ ہفتوں میں جائیدادوں کے تنازع سے متعلق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جن کے پیسے واپس کرنے ہیں واپس کریں ورنہ پراپرٹی انکے حوالے کی جائے،اس مسئلے کا ای او بی آئی کو حل نکالنا ہوگا،دس سال کے مقابلے میں آج پراپرٹی کی قیمتیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہونگی،جن کے کروڑوں پھنسے ہوے ہیں وہ بھی پاکستانی شہری ہیں،پسیوں کے معاملے پر عدالت عدم اطمینان کا شکار رہتی ہے،افسری کرنے کی بجاے انہیں بتاے کہ حالات بدل گئے ہیں،ای او بی آئی ایک بڑا ادارہ ہے، اسے دوبارہ اہنے پاوں پر کھڑا کریں۔منگل کو عدالت عظمی میں ای او بی آئی کرپشن کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ 10سال گزر گئے، متاثرین عدالتوں میں ہی پھنسے ہوئے ہیں،ای او بی آئی جائیدادوں سے متعلق دس سالوں میں بھی کوئی فیصلہ نہ کر سکی،جائیدادیں ای او بی آئی، پیسے سپریم کورٹ کے پاس جمع ہیں۔ ای او بی آئی حکام نے اس موقع پر عدالت سے معاملہ کے حل کیلئے مہلت طلب کی۔ جسے منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ امید ہے ای او بی آئی دیانت داری کیساتھ فیصلہ کرے گا،بعد ازاں عدالت عظمی نے ای او بی آئی کو چھ ہفتوں میں جائیدادوں کے تنازع کو حل کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدائیت کرتے کیس کی سماعت اگست تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے۔
Load/Hide Comments



