لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو قرضے ادا کرنے کیلئے ادھار لینا ہوگا،پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اسے اقتصادی ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے، انقلابی بننے والے کانوں کو ہاتھ لگا کر پارٹی چھوڑ گئے، پی ٹی آئی نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا،آج ہم اس کے دیئے گئے زخموں کو ٹھیک کرنے میں لگے ہیں۔ تحریک انصاف ریاست کے خلاف منظم مہم میں لگی ہوئی ہے،ملک بغیر منزل و سمت کے چلتا رہا اب ایسے دوراہے پر ہیں کہ وفاقی حکومت کے محاصل قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھی نہیں ہیں، اگر خود کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہم ون ٹریلین کی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں اورغربت پندرہ فیصد سے بھی کم ہو سکتی ہے، اگر ایک دوسرے کے ساتھ لڑیں گے تو دشمن کی ضرورت نہیں ہوگی، موجودہ صورتحال پر اگر لائف سٹائل تبدیل نہ کیا تو خدانخواستہ صورتحال خطر ناک ہو سکتی ہے،امید کرتا ہوں نوجوان یونیورسٹیوں سے ایسی سوچ کا زاویہ لے کر باہر نکلیں گے جو قوم کو متحد کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب اور میڈیا سے گفتگو، نارووال کے علاقہ بلال گنج میں سیوریج پائپ لائن کی فراہمی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ جب کسی جگہ آگ لگی ہوئی ہو تو سب سے پہلے آگ کو بجھایا جاتا ہے آگ پر قابو پا لیا جائے تو پھر یہ دیکھا جاتا ہے آگ کس نے لگائی تھی، انگلیاں اٹھائیں، مجرموں کے خلاف کارروائی شروع کریں اس کا وقت نہیں ہے، اس وقت سب سے پہلے ترجیح ملک کی معیشت کو بحال کیسے کیا جائے،اس آگ کو جو عمران خان کی نا اہلی اور نالائقی لگا کر گئی ہے اسے کیسے بجھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ نو مئی کو منصوبہ بندی کے ذریعے اہداف طے کئے گئے، اس میں ایسا کوئی ہدف نہیں جو غیر ریاستی ہو سب ریاستی اہداف کو چنا گیا، عمران خان کے معتمد ساتھی مراد سعید نے نے آڈیو پیغام میں کارکنوں کو کہا کہ اپنے اہداف اور ڈیوٹیوں پر پہنچ جائیں، اگر جناح ہاؤس کی سکیورٹی پر تعینات جوان کوئی کارروائی کرتے،بیس چالیس لوگوں کی لاشیں گر جاتیں تو وہ بھی بڑا حادثہ ہوتا لیکن انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا،عمران خان نے چہرے پر جو ماسک لگایا ہوا ہے وہ بے نقاب ہو گیا ہے کہ ان کا ریمورٹ جو فارن فنڈنگ کے ذریعے ملک دشمنوں کے پاس تھا وہ آشکار ہو گیا،آج بھی پی ٹی آئی آئی پاکستان کے برانڈ،کلیدی مفادات کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچانے کے لئے جو لابنگ کر رہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ پیپلز پارٹی نے ضیا ء مارشل لاء کا سامنا ہے، مسلم لیگ (ن) نے مشرف کے مارشل لاء کا سامنا کیا لیکن ہم نے امریکہ جا کر یہ نہیں کہا پاکستان کے دفاعی سامان کیسپلائی روک دو،ویزوں پر پابندی لگا دو آئی ایم ایف کو یہ نہیں کہا تھاکہ پاکستان کے پروگرام بند کر دو، پی ٹی آئی آج بھی پاکستان کی ریاست کے خلاف منظم مہم میں لگی ہے، اسے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں آتی، اپنے کیس کو مقبوضہ کشمیر سے بڑا کیس بنا کر پیش کر کے دشمنوں کا کام کیا جارہا ہے۔
Load/Hide Comments



