ملک کے حالات خطرناک ہیں،ادارے ادارے کو ماننے کو تیار نہیں، خورشید شاہ

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے ہیں 96وزیروں میں سے صرف 2وزیر ایوان میں موجود ہیں۔یہاں پر کوئی نہیں ہم کس سے بات کریں۔ ایوان میں کوئی وزیر نہ ہو اور ہم بجٹ پر بات کریں ملک کے حالات خطرناک ہیں۔اگر ہم ایوان میں نہیں ہوں گے تو اس کا مطلب ہے ہم خود ناخوش ہیں جمہوریت کے لیے پیپلز پارٹی نے جانیں دی ہیں ہماری 55سالا جمہوریت کی تاریخ ہے۔ہم نے ملک کے لیے یہ جبر برداشت کیا ہے۔آج ادارے ادارے کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ہم جمہوریت کو کامیاب پٹری پر چلانے کے لیے تیار نہیں ہیں ہم نے کوئی مجسمہ نہیں جلایا ہم یہ حرکت نہیں کرتے ہمارے لیڈر کال کوٹلی میں تھے مگر ہم نے یہ کام نہیں کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس 38 منٹ کی تاخیر سے شروع ہواتو ایوان میں صرف 16ارکان موجود تھے وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہاکہ پاکستان کو ایک سیکلون کا سامنا ہے جو بہت خطرناک ہے سندھ حکومت اس حوالے سے بہت متحرک ہے۔ تین ضلعوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے کراچی میں بارش کا بھی خطرہ ہے اس حوالے سے وارننگ دی جارہی ہے۔طوفان کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔لوگ وارننگ کو سنجیدہ لیں تاکہ نقصان نہ ہو۔ احتیاطی تدابیر کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت سندھ لوگوں کو نکال رہی ہے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع ہے۔اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔انجینئر صابر حسین قائم خانی نے کہاکہ سمندری طوفان سے سندھ ہمیشہ متاثر ہوتا ہے۔ سندھ میں علاقے خالی کروائے جارہے ہیں۔ لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے دیاجائے ان کو وہاں ہی سہولیات دی جائیں مولانا عبدالاکبر چترالی نے سمندری طوفان سے محفوظ رہنے کے لئے ایوان میں دعا کرائی۔سپیکر نے کہاکہ گیلری میں متعلقہ وزارت کے افسران نہیں ہیں اگر کل نہ آئے تو ان کے خلاف ایکشن ہو گا۔اجلاس 11بجے شروع ہوگا۔وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہاکہ ہمارے ارکان اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے ہیں 96وزیروں میں صرف 2وزیر ایوان میں موجود ہیں۔یہاں پر کوئی نہیں ہم کس سے بات کریں۔