صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں،ارشد شریف قتل کی وجوہات سامنے آنا ضروری ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے سینئر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے ہیں کہ ارشد شریف کے قتل کی وجوہات سامنے آنا ضروری ہے،صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہ ہوسکی،اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا ذکر موجود ہے،وزارت خارجہ کے مطابق کینیا سے باہمی قانونی تعاون کا معاہدہ سائن ہونے تک آگے نہیں بڑھ سکتے،فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے،الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا،جو جرم ہوا وہبہت سنگین تھا،ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا،یہ دیکھنا ہو ارشد شریف کینیا کیوں گئے،اس گاڑی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جس میں ان کا قتل ہوا۔صحافیوں سے گزارش ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھے اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریں۔منگل کو عدالت عظمی میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ سپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ کچھ تاخیر کا شکار ہوئی،انٹر پول کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے اس موقع پر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ کینیا کے احکام نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ساتھ تعاون کیا لیکن سپیشل جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نو جوان کو کینیا کے ہائی کمیشن نے کہا پہلے ایم ایل اے سائن کرنا ضروری ہے،کینیا نے ایک ڈرافٹ بھیجا ہے جو مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے، عدالت کو ڈرافٹ سے متعلق چیمبر میں آگاہ کرسکتا ہوں،کسی بھی قسم کی کاروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ایم ایل اے کاہونا ضروری ہے،فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ ایکٹ کا سیکشن 3 کینیا حکومت سے تعاون سے منع نہیں کرتا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر پوچھا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی،فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی،تحقیقاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے، بتایا جائے عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے۔ اٹارنی جنرل نے اس موقع پر بتایا کہ کینیا کی حکومت نے معاہدے کا ہی کہا ہے،اس معاہدے کے بغیر کوئی چوائس نہیں ہے۔ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کے وکیل سعد بٹر نے عدالت کو بتایا کہ اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے،جو متعلقہ ملک کو تفتیش کے لیے بھجوا سکتے ہیں،جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی اس قانون کے تحت ہو رہی ہیں،اگر حکومت کی جانب سے کمیٹی کو درخواست بھیجی جاتی ہے تو اسکا اثر زیادہ ہو گا،اسطرح کے قتل کیسز میں بین الاقوامی اداروں کو لکھا جا سکتا ہے،اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ عدالت خود ان سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی،عدالت اٹارنی جنرل سے کہے گی وہ اس رپورٹ کا جائزہ لیں اور عدالت کی معاونت کریں۔ بعد ازاں عدالت عظمی نے کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔