پشاور(آن لائن) پی ڈی ایم کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کے تحت جلد یا دیر الیکشن ہوں گے، الیکشن آئینی مدت سے آگے بڑھانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت کو بے رحمی سے زمیں بوس کیا، پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کر کے ایک سیکولر ملک بنا دیا گیا ،ملک کی اسلامی شناخت قائم رکھنے کے لیئے اپنا کر دار جاری رکھیں گے،کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ مودی عمران گٹھ جوڑکانتیجہ ہے،حکومت جواب دے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟۔پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا ملکی معیشت اس طرح گر چکی ہے اس کو اٹھانا بہت بڑا چیلنج ہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے بڑی بے دردی سے معیشت کو زمین بوس کیا، ملک اس وقت معاشی بحران کی زد میں ہے، مشکلات کے باجود حکومت نے بجٹ کو متوازن قرار دیا ہے۔عوام کو ریلیف فراہم کر نے کیلئے جے یوآئی حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہے گی،معیشت اس حد تک گر چکی ہے کہ اگلی حکومت اس اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 9مئی کے واقعات کی مذمت کی گئی ایسے فتنے کی بیخ کنی ہونی چاہئے اور ایسے واقعات میں ملوث کرداروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے،پاکستان کا اسلام تشخص ختم کر کے ایک سیکولر ملک بنا دیا گیا ہے۔ملک کی اسلامی شناخت قائم رکھنے کے لیئے اپنا کر دار جاری رکھیں گے،ہم نے سیاست میں اتار چڑھاؤکو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ہماری خارجہ پالیسی کا محور پاکستان کا مفاد ہونا چاہئیے۔کسی بھی ملک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات برابری کی سطح پر ہونے چاہیے،کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ مودی عمران گٹھ جوڑکانتیجہ ہے، بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ایک جارحانہ عمل ہے جس کی جے یو آئی شدید مذمت کرتی ہے۔ جے یو آئی کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجتی کا اعادہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں پاک چین دوستی لازوال، ہمالیہ سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔پاک چین دوستی معاشی دوستی میں تبدیل ہو چکی ہے۔گزشتہ حکومت نے سی پیک منصوبوں کو منجمند کر دیا تھا، پی ٹی آئی حکومت پاک چین دوستی کو ٹھیس پہنچائی،اب دوبار ہ چین کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل جاری ہے۔ 70ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ٹھیس پہنچایا گیا۔ کیوں ہماری نئی نسل اور قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے۔الیکشن میں ہر پارٹی اپنے اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر الیکشن لڑتی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی خود کو صادق و امین کہتے ہیں لیکن وہ اندر سے تاریخ سے سب سے بڑے مجرم ہیں،پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں، ہر پارٹی کی اپنی انتخابی حکمت عملی ہوتی ہے۔ جے یو آئی کی مجلس شوریٰ نے عام انتخابات کیلئے تیاریوں کی ہدایت کردی ہے،انہوں نے کہا آئین کے تقاضے کے مطابق الیکشن ہوں گے، اس حوالے سے کوئی ابہام موجود نہیں ہیں، اگر الیکشن تاخیر سے ہوتے ہیں، آئینی مدت سے آگے بڑھتے ہیں تو انتخابات کو آئینی مدت سے آگے بڑھانے کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، اس کا فیصلہ کسی پارٹی یا شخصیت نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، اگر انتخابات ئینی مدت کے اندر ہونے ہیں تو پھر اس کا شیڈول الیکشن کمیشن نے دینا ہے۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا ماحول قائم رہے گا،سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے،انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت، گالم گلوچ اور غلط رجحانات پیدا ہوئے ہیں، یہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے، ماضی وہ اچھی روایات اور اقدار کہاں چلی گئیں، ہماری سیاست میں بچپانہ کیوں پگیا، ایک دوسرے کی تذلیل کرنا، قیادت کی سطح پر لوگوں کے ناموں کو بگاڑنا، یہ جو ہماری نئی نسل کے اخلاق کو بگاڑا ہے، یہ قابل نفرت چیزیں ہیں، ہم اس گند سے نفرت کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس کی اصلاح ہوجائے، ہمارے نوجوان کو اخلاقی تعلیم دینے کی ضروت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ چیز ہمارے نظام تعلیم کا حصہ ہونی چاہیے۔مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ہم حکومت پر زور ڈال رہے ہیں کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جو میگا کرپشن کے کیسز ہیں، وہ اب تک میچور کیوں نہیں ہورہے، کیوں اس کے خلاف ایف آئی آر نہیں آرہیں، کیا پشاور میں بی آرٹی، بلین ٹری سونامی، مالم جبہ، صحت کارڈ، توشہ خانہ جیسے میگا کرپشن کیسز سامنے آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والا رات رات گرفتار ہوسکتا ہے، اس کو سی کلاس جیل میں ڈالا جاسکتا ہے، اس کی بیٹی کو اس کے ساتھ جیل میں ڈالا جاسکتا ہے، اہلیہ بستر مرگ ہے، اس سے رابطے کی اجازت نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ جو رویہ ان کے ساتھ رکھا گیا، وہ کسی اور ساتھ رکھا جائے لیکن یک طرفہ رویہ نہیں ہونا چاہیے، جو لوگ صادق و امین کے لبادے میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں اور وہ اندر سے تاریخ کے بہت بڑے مجرم ہیں، ان کو سامنے لانا چاہیے، عجب بات تو یہ ہے کہ آج ہماری عدلیہ جو ہے وہ جرم کے تحفظ کے لیے رہ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز کو سوچنا چاہیے، اس کے ووٹر کو چاہیے کہ وہ خود اپنی قیادت سے سوال کرے کہ تین سال حکومت کی، اپنی ایک کارکردگی بتادو کہ آپ نے اس ملک کے لیے کیا کیا، ہمارے منصوبے سب نیچے چلے گئے، ملک کی معشیت انڈوں اور کٹوں پر آگئی، آپ اندازہ کریں کہ ملک کی معیشت کو کہاں پہنچادیا گیا اور جس نے ان کو ووٹ دیا ہے کیا وہ خود کو اس کا ذمے دار نہیں سمجھے گا، کیا وہ نہیں سوچے گا کہ میرے ووٹ سے اتنا بڑا مجرم پاکستان پر مسلط رہا۔ ۔۔ سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔پاک چین دوستی معاشی دوستی میں تبدیل ہو چکی ہے۔گزشتہ حکومت نے سی پیک منصوبوں کو منجمند کر دیا تھا، پی ٹی آئی حکومت پاک چین دوستی کو ٹھیس پہنچائی،اب دوبار ہ چین کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل جاری ہے۔ 70ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ٹھیس پہنچایا گیا۔ کیوں ہماری نئی نسل اور قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے۔الیکشن میں ہر پارٹی اپنے اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر الیکشن لڑتی ہے۔
Load/Hide Comments



