اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاذ کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے،زرمبادلہ کو بہتر بنانے کیلئے جو پیسے بیرون ممالک پڑے ہیں وہ ملک میں رکھیں، حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔سب کی ذمے داری ہے تعاون کریں۔عدالت عظمی نے اس موقع پرغیر منقولہ پراپرٹی پر عا?د سو فیصد ٹیکس دینے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ سوموار 12 جون کو عدالت عظمی میں معاملہ کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نیکی۔ اس موقع پرعدالت نے 100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین کو غیر منقولہ جا?یدادوں پر 50 فیصد ٹیکس ادا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیصلے کا اطلاق منقولہ جا?یداد پر نہیں ہوگا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس ن?ے ٹیکس سسٹم کی خامیوں کو دیکھنا ہوگا،مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیل?ے کریٹو ٹیکسیشن کرنا ہوگی،عدالت نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ آ?ین و قانون کے مطابق کرنا ہے۔ایف بی آر کے ممبر لیگل نے بتایا کہ یہ معاملہ اربوں کا ہے،عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تو باقیوں کیساتھ زیادتی ہوگی،ٹیکس پالیسی پر ایسے ریلیف ملنا شروع ہوگیا تو مشکلات بڑھیں گی۔چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ جو سو فیصد ٹیکس ادا کرنا چاہے تو عدالت کو کو?ی اعتراض نہیں۔بعد ازاں معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے۔
Load/Hide Comments



