آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت پلان بی موجود،پبلک میں بات نہیں ہوسکتی،اسحاق ڈار

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا توپلان بی موجود ہے، پلان بی پر پبلک میں بات نہیں ہوسکتی، ہمیں ملکی قرضوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں،معاشی استحکام ہو چکا ہے اب شرح نمو بڑھا نے کی طرف جانا ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والوں کی غلط پالیسیو ں کی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا کرنا پڑا،حکومت نے مشکل فیصلے کرکے معیشت کو بچایا ہے، پاکستان ڈیفالٹ نہیں کریگا، 2018 میں شرح سود کو ساڑھے 6 فیصد پر چھوڑا تھا جو اب 21 فیصد پر ہے، ایک طرف قرضے دوگنے ہو گئے اور دوسری طرف شرح سود بھی ساڑھے 3 گنا بڑھ گیا ہے،ساڑھے تین فیصد جی ڈی پی کا ہدف باآسانی حاصل ہوجائے گا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی شکل میں دیا گیا ہے،بیرون ممالک سے ترسیلات زر بھجوانے والے پاکستانیوں کو خصوصی مراعات دے رہے ہیں، سعودی عرب اور یو اے ای کی جانب سے ڈیپازٹ کی یقینی دہانی کرائی گئی ہے، آٹا،گھی اور دالوں پر سبسڈی کیلئے بھی رقم مختص کردی گئی، ڈبہ دودھ کے اوپر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا گیا، 50ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے، ملک میں آسان فنانس سکیم کو دوبارہ فعال کردیا گیا ہے،مسلم لیگ (ن) کا ہدف جوہری طاقت ہونے کے ساتھ پاکستان کو خود کو معاشی طاقت بھی بنانا چاہیے،الیکشن کے بعد بھی جو نتائج آئیں گے اس کے لیے ہمارا ہدف یہی ہونا چاہیے کہ ہمیں ملک کو دوبارہ ترقی کی طرف لے کر جانا ہے۔ہفتہ کے روز پوسٹ بجٹ بریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ بجٹ کے حوالے سے جو خامیاں اور مسائل سامنے آئی ہیں اس حوالے سے آج وضاحت کرونگا انہوں نے کہا کہ بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل تاجر برادری کے تحفظات کو چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ مل کر درست کر لیں گے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ایف بی آر کی ایک کمیٹی قائم کر رہے ہیں یہ کمیٹی مختلف اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات اور خدشات کا جائزہ لے گی انہوں نے کہاکہ سینٹ کی سفارشات کو بھی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق نے کہا ہے کہ ہمارا بحران بہت شدید تھا جس سے ہم نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور استحکام آ گیا ہے، نئے مالی سال میں 2963 ارب روپے کا نان ٹیکس ریونیو اکٹھا ہو جائے گا اور تاریخ میں پہلی بار پی ایس ڈی پی کے لیے 1150ارب روپے کی بڑی رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ہم ایسا کرتے رہے ہیں کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد ایف بی آر میں دو کمیٹیاں بناتے ہیں، ایک کاروباری معاملات کے حوالے سے ہوتی ہے اور دوسرے تکنیکی امور کے بارے میں ہوتی ہے، چیئرمین ایف بی آر مجھ سے آج منظوری لے لیں گے جس کے بعد ہم اس کو بنا دیں گے،ان کا کہنا تھا کہ اگر ان دونوں چیزوں میں کسی کو شکایات ہیں تو وہ ان کمیٹیوں سے رجوع کر سکتا ہے تاکہ ہم ان کے تحفظات کو بھی دور کر سکیں،انہوں نے کہا کہ مجموعی وفاقی ریونیو 12ہزار 163ارب کا اس بجٹ میں پیش کیا گیا، ایف بی آر کی کلیکشن 9ہزار 200 اور نان ٹیکس ریونیو 2 ہزار 963 ہے،اسحٰق ڈار نے کہا کہ اس میں اسٹیٹ بینک کا منافع 1113 ارب روپے ہے، صوبوں کو منتقلی کے بعد مجموعی وفاقی ریونیو 6 ہزار 887 ارب روپے ہے جبکہ اس ریونیو کے مقابلے میں کْل خرچہ 14ہزار 463 ہے، اس میں کرنٹ خرچہ 13ہزار 320 ہے جس میں مارک اپ کی 7ہزار 300 کی بڑی رقم ہے، دفاع کے 1804 ارب روپے ہیں، ایمرجنسی اور دیگر کے لیے 200ارب ہیں، گرانٹس کے لیے 1464 ارب روپے ہیں، سبسڈیز 1074ارب کی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ وفاقی خسارہ 7ہزار 573 (منفی 7.2فیصد) ہے اور صوبائی سرپلس کے بعد 6ہزار 923 ہے جو 6.54 فیصد بنتا ہے، مجموعی پرائمری 380ارب روپے رکھا گیا ہے اور جی ڈی پی کا 0.4فیصد حصہ بنتا ہے،انہوں نے کہا کہ جب میں نے 18-2017 کا بجٹ پیش کیا تھا تو پی ایس ڈی پی ایک ہزار ٹریلین تھا اور جو پچھلے سال 567ارب تھا، اس کے بعد پہلی مرتبہ ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے اور ہم نے 1150ارب روپے اس مرتبہ مختص کیے ہیں۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پی ایس ڈی پی میں اہم انفرااسٹرکچر کے لیے 491.3ارب روپے ہے، سماجی شعبے کے لیے 241.2ارب روپے ہے، ہائر ایجوکیشن کے لیے 82ارب روپے ہے، ایس ڈی جی کے 90ارب روپے ہیں، دیگر سماجی شعبے کے لیے 46ارب روپے ہیں، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے لیے 263ارب روپے ہیں، پانی کے لیے 100ارب روپے ہیں، فزیکل پلاننگ اور ہاؤسنگ کے لیے 42ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے پی ایس ڈی پی پر صحیح طریقے سے عمل کر لیا اور اس کو شفافیت کے ساتھ اس میں سرمایہ کاری کی تو ہم اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے اور ساڑھے تین فیصد کی شرح نمو حاصل کر سکیں گے اور آئی ایم ایف نے بھی ہماری شرح نمو کا یہی تخمینہ لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مالی سال کے میکرو اکنامک اشاریوں کی بات کی جائے تو قومی ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی شرح 21فیصد رہنے کا امکان ہے، جی ڈی پی کے مقابلے میں ریونیو کا تخمینہ 8.7فیصد لگایا گیا ہے، مجموعی خسارہ 6.54فیصد ہے، پرائمری بیلنس 0.4فیصد ہے، جی ڈی پی کے مقابلے میں عوامی قرضہ 66.5فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قرضہ بہت اہمیت کا حامل ہے جسے ہم نے 2017 میں 63فیصد پر چھوڑا تھا، اس کے بعد یہ 74 کے قریب پہنچا تھا اور اس کے بعد یہ دوبارہ 66فیصد پر واپس آرہا ہے، تو یہ بہت اہمیت کا حامل ہے،اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم نے شرح سود کو جون میں شرح سود کو ساڑھے 6 فیصد پر چھوڑا تھا جو اب 21 فیصد پر ہے، ایک طرف قرضے دوگنے ہو گئے اور دوسری طرف شرح سود بھی ساڑھے 3 گنا بڑھ گیا ہے، اسی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی رقم اس سال ہمارے بجٹ میں سب سے زیادہ ہے، اللہ کرے کہ ہم اسے کم کر سکیں اور یہ حقیقی نمبر پر آئے کیونکہ ہر ایک فیصد سے ہمیں 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ یہ ہم نے روایتی بجٹ سے ہٹ کر بنایا ہے، ہمیں کہیں سے آغاز کرنا ہو گا، جب شرح نمو ہو گی، معیشت کا پہیہ چلے گا، لوگوں کو روزگار ملے گا تو میکرو اکنامک اشاریے ٹھیک ہونا شروع ہوں گے اور مہنگائی کم ہونا شروع ہو گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، پالیسی ریٹ نیچے آئے گا،ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہم 2017 کے میکرو اکنامک اشاریوں پر واپس جا سکیں، جب ہم وہ حاصل کر لیں گے تو پھر ہمارے پاس دوسرا ہدف ہو گا کہ ہم وہ مقام حاصل کر سکیں کہ جی20 ممالک کا حصہ بن سکیں، جوہری طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو خود کو معاشی طاقت بھی بنانا چاہیے.