عمران خان کو توشہ خانہ،القاردر اور چوری کرپشن کے دیگر کیسز میں جوابدہ ہونا پڑے گا،عطاء تارڑ

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی عطار تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ،القاردر اور کرپشن کے دیگر کیسز میں جوابدہ ہونا پڑے گا، جہانگیر ترین گروپ کے بہت سارے لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور کابینہ کاحصہ ہیں، مستقبل میں بھی ان کے ساتھ چلیں گے،وہ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جانے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں وہ غداری کا لیبل لگانے کی بجائے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لاڈلے خان نے انہی تاخیری حربوں کا سہارا لیا،اگر عمران خان جیل میں ہوتا تو بلوچستان میں ایک معزز وکیل کا قتل نہ ہوتا، اس کیس میں مقتول کے بیٹے نے عمران خان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کریمنل مائنڈڈ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا وجود ریاست سے بڑا ہے لیکن یہ ان کی بھول ہے۔انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ،القاردر اور چوری کرپشن کے دیگر کیسز میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جانے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں وہ غداری کا لیبل لگانے کی بجائے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کے بدترین دور میں پانچ لوگ چھوڑ کر گئے تھے لیکن جب وہ واپس آئے تو ہم نے کھلے دل سے انھیں استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین گروپ کے بہت سارے لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور کابینہ کاحصہ ہیں، مستقبل میں بھی ان کے ساتھ چلیں گے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے راہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان کے وکیل کی جانب سے جو تاثر دیا گیا کہ 120 دن کے بعد گوشوارے چیک نہیں ہوسکتے،یہ بالکل غلط ہے، ہم نے سپیکر کے سامنے اپنا ریفرنس پیش کیا جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا،ایسی صورت میں 120 کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی کا بھی اس حوالے سے نجیب الدین اویسی فیصلے کی موجودگی میں کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کریمنل کیس میں حکم امتناہی دیا جائے۔ انہوں نے کہا الیکشن کمیشن کے فیصلے کے 10 مہینوں کے بعد بھی کیس آگے نہیں بڑھ رہا اس کے برعکس محمد نواز شریف کے کیسز کی یومیہ کی بنیاد پر سماعت ہوتی تھی، الیکشن سے قبل فیصلہ کیا گیا ، یہ خصوصی ٹریٹمنٹ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی نے چوری کی ہوتی ہے اس کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈی نوٹیفائیڈ کیا جاتا ہے اور دوسرا الیکشن کمیشن کریمنل کارروائی کرتا ہے۔