اسلام آباد (آن لائن)آئندہ مالی سال کا بجٹ 2023-24 آج جمعہ کی شام پیش کیا جائیگا،بجٹ کا مجموعی حجم 14.5 ٹریلین روپے سے زائد ہو گا، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار شام چار بجے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی بجٹ پیش کریں گے،وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 سے20 فیصد اضافہ متوقع ہے جبکہ دفاعی شعبے کے لئے 1800 ارب روپے سے زائد مختص کئے جانے کی تجویز ہے،مزدور کی کم سے کم اجرت35 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے،قومی ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم2709 ارب روپے ہوگا جبکہ اس میں سے صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559 ارب اور وفاقی کا ترقیاتی بجٹ 1150 ارب روپے مقرر ہوگا،1150 ارب میں سے 200 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختص ہوں گے،قرضوں کی ادائیگی کے لئے 7300 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ آئندہ مالی سال ٹیکس ریونیو ہدف 9200 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے،نان ٹیکس ریونیو کے لئے 2800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،نئے مالی سال میں اقتصادی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد اور مہنگائی کی شرح کا 21 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے،برآمدات کے لئے 30 ارب ڈالر اور درآمدات کے لئے 58ارب70 کروڑ ڈالر کا تخمینہ ہے، اس طرح بجٹ خسارہ28 ارب 70 کروڑ ڈالر ہوگا۔
Load/Hide Comments



