آئندہ مالی سال ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 9200 ارب تک رکھنے کی تجویز

اسلام آباد (آ ن لائن)آئی ایم ایف کی مشاورت سے آئندہ مالی سال ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 9200 ارب تک رکھنے کی تجویزدی گئی ہے، ایف بی آر حکام کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گاجبکہ بجٹ میں لگژری اشیاء پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جانے کا امکان ہے۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق آئندہ بجٹ میں 700 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویزدی گئی، اس حوالے سے فنانس بل تیار کر لیا گیا فنانس بل کے مطابق بجٹ میں 510 ارب کے ٹیکسز منی بجٹ، 2 سو ارب کے مزید ٹیکسز لگیں گے، ایف بی آر رواں مالی سال کی نسبت آئندہ مالی سال 19 سو ارب اضافی اکٹھے کرے گا، نئے مالی سال کے بجٹ میں نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا، نان فائلر کیلئے میوچل فنڈز اور رئیل انویسٹمنٹ ٹرسٹ پر 30 فیصد عائد کرنے کی تجویزدی گئی ہے جبکہ بجٹ میں لگژری اشیاء پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جائے گا، درآمدی اشیاء پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شق 148 کے تحت بڑھایا جائے گا، پراپرٹی کے شعبے میں لین دین کرنے والے نان فائلرز ٹیکس کی شرح دوگنی کی جائے گی، ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی تجویزدی گئی ہے، نان فائلر کیلئے پرائز بانڈز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا، مشینری اور کمرشل رینٹ پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویزسامنے آئی ہے۔بجٹ میں نان فائلرز کے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح فائلرز کی نسبت دوگنی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین کو دستاویزی بنانے کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے، غیر استعمال شدہ رہائشی، کمرشل، انڈسٹری پلاٹ اور فارم ہاؤس پر ٹیکس لگے گا، مشینری، کمرشل رینٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔