توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کو سپیشل ٹریٹمنٹ دیا جارہا ہے،محسن شاہنواز رانجھا

اسلام آباد (آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کو سپیشل ٹریٹمنٹ دیا جارہا ہے جس کی آئین و قانون میں اجازت نہیں ہے، ہمارا سادہ سا سوال ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ کے تحائف چھپائے ہیں،بدھ کے روزپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہا کہ بہت اہم سوال جو اٹھ رہا ہے توشہ خانہ کے حوالے سے ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء عدالتوں میں کچھ گفتگو کررہے ہیں،ان کے وکلاء کی جانب سے کہا گیا کہ 120 دن کی معیاد ختم ہونے کے بعد کاروائی نہیں کی جا سکتی،ہم نے اپنا ریفرنس الیکشن کمیشن کے پاس دائر نہیں کیا،میں نے ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریفرنس دائر کیا،مجلس شوریٰ کا کوئی رکن بد دیانتی کرے تو سپیکر الیکشن کمیشن کے پاس بھیج سکتا ہے،محسن شاہنواز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کہتے ہیں ہیں کہ کریمنل پروسیسنگ قابل سماعت نہیں ہے،ایک عمران خان کو ڈی نوٹی فائی کیاگیا اور دوسرا ریفرنس بھیجا گیا،انہوں نے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اگر کوئی ممبر اسمبلی اثاثے چھپاتا ہے تو 120 دن کا قانون جائز ہے،اسٹے آرڈر کی سہولت صرف عمران خان کو ہی حاصل ہے،نجیب الدین اویسی کے فیصلے میں یہ واضح لکھا ہے کہ اس طرح کے ریفرنس میں دو قسم کی سزائیں ہو سکتی ہیں،ہم سیاسی جماعتیں یہ سوچ رہی ہیں کہ نواز شریف کو تو یہ سہولیات نہیں تھیں،اب شوکت صدیقی کے انٹرویوز میں چیزیں سامنے آ رہی ہیں تو پتہ چل رہا ہے کہ نواز شریف تو لاڈلے نہیں تھے،توشہ خانہ کا فری اینڈ فئیر ٹرائل ہونا چاہئے،کیوں عمران خان کو اسپشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے جس کی آئین و قانون اجازت نہیں دیتا،قانون میں ہائی کورٹ کے اس اسٹے آرڈر کی کوئی گنجائش نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارا سوال یہ تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف چھپائے ہیں،الیکشن کمیشن نے جب کاروائی کی تو ان کو یہ بات صیح نظر آئی،اب جب سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،ہائی کورٹ کو اب دیکھنا پڑے گا کہ یہ چوری 120 دن گزرنے پر جائز کیسے ہے،پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ہائی کورٹ ایسے کیس پر اسٹے دے رہی ہے،ہم نے آرٹیکل 63 کے تحت یہ ریفرنس دائر کیا تھا،جب معلومات پاکستانی قوم کے سامنے آئیں گی تبھی کاروائی ہو گی ناں، اس عدالتی لاڈلے کے ساتھ اس طرح کا اس سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں ہونا چاہیے تاکہ قوم کا ہمارے عدالتی نظام پہ بھروسہ قائم رہے۔