شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات، بجٹ اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

اسلام آباد (آن لائن) وزیرِ اعظم شہباز شریف سے صدر جمیعت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے ملاقات کی جس کے دوران آئندہ بجٹ پر مشاورت اور ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران بجٹ 24-2023 پر مشاورت ہوئی اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔بعدازااں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں تاہم ر یاستی املاک کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ جی ایچ کیو پر حملہ کریں گے تو آر می ایکٹ تو حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا نے کہا پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، پابندی لگتی ہے تو خس کم جہاں پاک والی بات ہے۔ انہوں نے کہا عدالت جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں اسی وجہ سے ہمیں عوامی عدالت میں جانا پڑا۔ انہوں نے کہا عدالت سمجھتی ہے پابندی لگنی چاہیے تو خس کم جہاں پاک۔ مستحکم عدالتی نظام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا جمہور یت میں میں عوام رائے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا انتخابات کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتیں ملکر کریں گی۔ جو ملک کے لئے اچھا ہو گا وہ فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ اس وقت ملکی کی صورتحال ہے تو کیا ا یسے حالات میں ملک قربان کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسا ئل کی وجہ گذشتہ حکومت کی پالیسیاں ہیں۔۔ انہوں نے کہا کہ ہم اختلاف رائے کے باوجود اتفاق رائے پر پہنچے اور فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنجمہنگائی ہے۔ دو ہزار اٹھارہ میں ملکی گرو تھ گری تھی۔ اور اب تک اسکا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ڈی ایم انٹخابی اتحاد نہیں ہے۔ انتخابی اتحاد علاقائی سطح پر ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔