اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے 1100 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے،۔ ماضی کی حکومت نے 80 ارب کی غیر ضروری درآمدات کیں، جس کے باعث بڑا تجارتی خسارہ دیکھنا پڑا، اگلے سال شرح نمو ساڑھے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے،۔ گزشتہ روز یہاں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت خزانہ نے 700 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی تجویز دی تھی، 950 پی ایس ڈی پی اور 150 پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جاری ہوں گے، ہماری پچھلی حکومت نے 1000 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا تھا۔احسن اقبال نے کہا کہ آج پھر ہم نے بڑے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے، ہم نے پاکستان تو سنگین ترین کلائمیٹ ڈیزاسٹر اور ایمپورٹ منیجنمنٹ کر کے ملک ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، اگلے سال کا جو فریم ورک ہے اس کے مطابق انفلیشن کی شرح 29 اشارعیہ دو فیصد سے گھٹ کر 21 فیصد پر آ جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے 80 ارب کی غیر ضروری درآمدات کیں، جس کے باعث بڑا تجارتی خسارہ دیکھنا پڑا، اگلے سال شرح نمو ساڑھے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، مینوفیکچرنگ شعبہ 4 فیصد کی گروتھ سے آگے بڑھے گا، سروسز سیکٹر میں 3.6 فیصد کی گروتھ رہے گی۔
Load/Hide Comments



