اسلام آباد (آن لائن) افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے ابتدائی 21 مہینوں کے دوران ان کے اقتدار سے پہلے کی شرح کے مقابلے میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں 73 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیش اسٹڈیز کی جانب سے پاکستان کا افغان مؤقف اور پالیسی کے اختیارات کے عنوان سے پیش کردہ پالیسی پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 اگست 2021 سے جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو مجموعی طور پر پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان میں اگست 2021 سے اپریل 2023 کے دوران حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بھی 138 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے دہشت گردی کے حوالے سے افغان صورت حال کے واضح اثرات کا مشاہدہ کیا ہے، جہاں ان 21 ماہ کے دوران حملوں کی تعداد میں بالترتیب 92 فیصد اور 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔تاہم طالبان کے قبضے کے بعد سے پنجاب، سندھ اور اسلام آباد میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اگست 2021 سے پہلے کے مقابلے ان 21 ماہ میں نسبتاً کمی آئی ہے۔رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے یہ ابھرتے ہوئے رجحانات خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں طالبان عسکریت پسندی، بلوچستان میں بلوچ قوم پرست بغاوت، سندھ میں نسلی قوم پرستی کے تشدد کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے پاکستان کے مسلسل سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کریں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ طویل عرصے تک، عدم تحفظ، عسکریت پسندی اور تشدد کا ایسا ماحول سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
Load/Hide Comments



