اسلام آباد(آن لائن) وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ روسی خام تیل لانے والا پہلا جہاز حجلد پاکستانی ساحلوں کے قریب پہنچ جائے گا، تاہم روسی تیل کی آمد سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں ہوں گی،روسی تیل کے زیادہ کارگوز آئیں گے تو ہی قیمت کم ہوگی۔پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبوں کی نمائندہ تنظیم پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان آئل اینڈ گیس کانفرنس 2023 کی میزبانی کی۔کانفرنس نے پاکستان انرجی آؤٹ لک دستاویز 2022 کے اجراء کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا، جس میں توانائی کی طلب اور رسد کے بدلتے ہوئے منظرناموں کا تجزیہ کرنے کے لیے PIP اور NED یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کی مشترکہ کوششوں کو اجاگرکیا۔پیٹرولیم کے وزیر مملکت مصدق ملک نے ایک ویڈیو ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کیا۔جس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی اہمیت اور پاکستان کے پائیدار توانائی کے مستقبل کے لیے ان کے تعین اور اہداف کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ روسی خام تیل لانے والا پہلا جہاز جلد ہی پاکستانی ساحلوں کے قریب پہنچ جائے گا۔مصدق ملک نے کہا ہے کہ روسی تیل کی آمد سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں ہوں گی۔ مصدق ملک نے کہا کہ روسی تیل کے زیادہ کارگوز آئیں گے تو ہی قیمت کم ہوگی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی سستا تیل ملے گا ہم خریدیں گے، کوشش ہے پابندیوں سے بچیں اور توانائی کی ضروریات بھی پوری ہوں۔انہوں نے کہاکہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش پر دوبارہ کام شروع کر رہے ہیں، ملک میں جلد ٹائٹ گیس کی پالیسی لائیں گے۔مصدق ملک نے کہا کہ حکومت گیس کے بند کنویں دوبارہ کھولنے پر غور کررہی ہے، کوشش ہے بند ہونے والے کنووں کی بحالی کے لئے کچھ رعایت دیں۔کانفرنس کے دوران جن اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی اْن میں میں تیل کے شعبے میں پائیداری کے لیے چیلنجز اور ان کے حل، پاکستان انرجی سپلائی چین اور اس سے منسلک حفاظتی چیلنجز، پاور سپلائی کی تشخیص اور ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ کے مواقع، پاکستان کی آف شور پوٹینشل، E&P چیلنجز شامل ہیں۔ پاکستان کا ریفائننگ سیکٹر، چیلنجز اور مواقع، پاکستان میں ایل پی جی کا مستقبل اور قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قلت کو دور کرنے جیسے موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔پی آئی پی کے چیف ایگزیکٹو شہریار عمر نے پی آئی پی کے چیئرمین شاہد محمود خان کو پاکستان انرجی آؤٹ لک 2022 ایڈیشن پیش کر کے اس اہم دستاویز کا باضابطہ اجراء کیا۔ یہ ایک جامع اشاعت ہے جو تجزیہ اور طلب اور رسد کے فرق کی بصیرت فراہم کرتی ہے۔ آئل اور گیس کمپنیوں کے CEOs، تنظیموں کے سربراہان، سرکاری حکام، صنعت کے پیشہ ور افراد، میڈیا کے نمائندوں اور اکیڈمیا اور تیل اور گیس کی صنعت کے دو سو سے زائد نامور ماہرین اور مندوبین کی شرکت کے ساتھ، کانفرنس نے نیٹ ورکنگ کے قیمتی مواقع اور علم کے اشتراک کو فروغ دیا۔1963 میں قائم ہونے والا، پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان ایک پیشہ ور، غیر سرکاری ادارہ کے طور پر ابھرا ہے جو حکومت پاکستان، صنعت کے اسٹیک ہولڈرز اور تعلیمی اداروں کو توانائی کی قابل اعتماد مشاورتی خدمات فراہم کرکے قومی ترقی کے مقاصد کی تکمیل کے لیے وقف ہے۔ فی الحال پاکستان میں کام کرنے والی 21 بڑی تیل اور گیس کمپنیوں پر مشتمل، PIP کو عالمی پیٹرولیم کونسل (WPC) جیسے معزز بین الاقوامی اداروں کا ملک کا نمائندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
Load/Hide Comments



