سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی تحریک انصاف چھوڑ دی

کراچی(آن لائن)پاکستا ن تحریک انصاف کے بانی رکن اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی پارٹی سے راہیں جدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے میں پاکستان تحریک انصاف کے تمام عہدے چھوڑ رہا ہوں۔ہماری حکومت کے ختم ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے عمران خان کو غلط گائیڈ کیا اور کہا گیا کہ تحریک انصاف کا مقابلہ فوج سے ہے۔نو مئی کے واقعات کی پرزور مذمت کرتا ہوں، میرادل اپنے ملک اور فوج کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ہفتہ کو اپنی رہائی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران اسماعیل نے کہا کہ آج انکی آخری سیاسی پریس کانفرنس ہے۔ میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنماؤں میں سے ہوں۔ جب عمران خان کا ساتھ دینا کا فیصلہ کیا تو اس وقت ترقی و خوشحالی والے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔میں ان 4لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے پی ٹی آئی کا سنگ بنیاد رکھا، ہم نے25سے26سال سیاسی جدوجہد کی اور پونے 4سال ہماری حکومت رہی،میرا عمران خان سے بڑا اچھا تعلق رہا۔انہوں نے کہا کہ9 مئی واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ اس واقعے کے پانچ چھ دن بہت سوچا۔ چھپتا رہا لیکن بعد میں پکڑا گیا، مجھ پر جو مقدمہ ہوا اس میں میں شامل نہیں تھا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ میرے اوپر کوئی کیس نہیں ہے، آج ایک آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے میں پاکستان تحریک انصاف کے تمام عہدے چھوڑ رہا ہوں۔ میں پاکستان تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں، لیکن حتمی طور پر سیاست کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ جاری رہے گی یا نہیں۔عمران اسماعیل نے کہا کہ لوگوں نے بہت عزت دی، میں انکا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس موقع پر عمران خان کو خدا حافظ کہتا ہوں، تحریک انصاف کو اللہ حافظ کہتا ہوں۔عمران اسماعیل نے کہا کہ کہ آج سب کہہ رہے ہیں وہ خلاف تھے لیکن ذمہ داری کسی نہ کسی کولینی ہے اور میں نام نہیں لے رہا، وہ لوگ سوچیں جنہوں نے عمران خان کے ارد گرد بیٹھ کر ایسے مشورے دیے اور عجیب ناموں سے پکارا، کبھی مسٹرایکس اور مسٹر وائی اور کبھی ڈرٹی ہیری جیسے نام دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے ذہن میں ایک بات بیٹھ گئی ہمارا مقابلہ سیاسی قوتوں سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے، 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری ہوتی ہے اور اس کے بعد ملک میں غدر شروع ہوتا ہے۔ میں 9 مئی کو شاہ محمود قریشی کے ساتھ کراچی سے اسلام آباد گیا تھا، جس پر پارٹی کے لوگ ناراض بھی ہوئے کہ احتجاج میں نہیں آتے اور ادھر سے ادھر جاتے ہیں اور یہ میری تذبذب ظاہر کرتا ہے کہ یہ مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 9مئی واقعات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، تاہم نو مئی کے واقعات کی پرزور مذمت کرتا ہوں، میرادل اپنے ملک اور فوج کے ساتھ دھڑکتا ہے، میں بچپن میں فوج میں شامل ہونا چاہتا تھا۔سابق گورنر سندھ نے بتایا کہ ہماری حکومت کے ختم ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے عمران خان کو غلط گائیڈ کیا اور کہا گیا کہ تحریک انصاف کا مقابلہ فوج سے ہے۔