بااختیار لوگوں سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنا رہاہوں،عمران خان

لاہور (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ بااختیار لوگوں سے بات چیت کے لیے کمیٹی بنا رہا ہوں، جو دو نکات پر بات چیت کرے گی اور اگرمیری ٹیم کو قائل کردیا گیا تو پیچھے ہٹ جاؤں گا، سپریم کورٹ کے ججز ہمارے لیے آخری امید ہیں کیونکہ قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے جانتا ہوں ججوں میں اختلاف رائے ہے مگر پھر بھی اگر جمہوریت کو نہ بچایا تو تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی، مجھے اب نہ لیڈر شپ ملتی ہے نا کارکن۔ سمجھ نہیں آتی کس سے رابطہ کروں، اس وقت مظالم سے بچنے کے لیے جادو کا ایک واحد راستہ پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرنا ہے۔ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ میرے گھر کے ارد گرد انٹرنیٹ سروس منقطع کردی گئی ہے، آج کل جو یزیدیت اور ظلم ہورہے ہیں اْن کی تاریخ نہیں ملتی، ہمارے دس ہزار سے زائد گرفتار کارکنوں کو چھوٹے پنجروں میں بھوکا پیاسا رکھا ہوا ہے جبکہ انہیں وکیلوں سے ملنے نہیں دیا جارہا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو ایسے رکھا ہوا ہے جیسے ملک دشمن ہیں جبکہ قانون میں تو جنگی مجرم کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کے ججز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ہمارے لیے آخری امید ہیں کیونکہ قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے جانتا ہوں ججوں میں اختلاف رائے ہے مگر پھر بھی اگر جمہوریت کو نہ بچایا تو تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ مجھے اب نہ لیڈر شپ ملتی ہے نا کارکن۔ سمجھ نہیں آتی کس سے رابطہ کروں۔ چیئر مین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے لوگوں پر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ تحریک انصاف سے الگ ہو جائیں مگر ایسا کرنے والے یاد رکھیں نظریے کو جکڑا نہیں جا سکتا ایسے ہتھکنڈوں سے تحریک انصاف کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے خود معلوم ہے کہ اس وقت ہمارے لوگوں پر کتنا پریشر ہے۔ وہ لوگ جو جمہوریت کیتھے ان کے ساتھ ایسا رویہ روا رکھنا جمہوریت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز ملک کو بچائیں، ملک بنانا ریپلک بن رہا ہے کیوں کہ جو بھی آواز اٹھاتا ہے اس کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ یہ تو لگ رہا ہے کہ ہم ہٹلر کے زمانے میں جی رہے ہیں۔ مغرب اور یورپ میں لوگ اس لیے جاتے ہیں کہ وہاں پر کوئی بھی ان کے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں جا سکتا مگر یہاں پر کسی کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بنیادی حقوق ختم ہو جائیں تو کمزور کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ احتجاج کے د وران ہمارے 25 لوگوں کو شہید کیا گیا مگر کوئی انکوائری نہیں کی جا رہی۔ جب معاشرے کے دوران پر امن احتجاج پر گولیاں چلائیں گے تو کل کسی بھی باری آسکتی ہے۔ اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں۔ جو بھی یہ سوچ رہا ہے لوگوں کو پی ٹی آ ئی سے الگ کرنے سے پی ٹی آئی ختم ہو جائے گی تو یہ ان لوگوں کی سوچ ہے کیوں کہ نظریہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ عوام میں جب آزادی کا نظریہ آجاتا ہے تو آپ کبھی بھی اس کو ختم نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کی غلامی تسلیم کر چکے ہوتے۔ کسی بھی پارٹی کے ووٹ بینک کو اوچھے ہتھکنڈوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس وقت لوگوں میں غم وغصہ ہے۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کسی پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ ایران میں بھی لوگوں پر بڑا ظلم کیا گیا مگر وہاں پر انقلاب آکر رہا تھا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اتنے پریشر کے باوجود ہماری جو لیڈر شپ ڈٹی ہوئی ہے میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں مگر یاد رکھیں کہ اگر سب بھی ساتھ چھوڑ جائیں تو جیتے گا وہی جسے میں ٹکٹ دوں گا۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ، پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن سب ملے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ہمارے مخالفین الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تب ختم ہوتی ہے جب اس کا ووٹ بینک ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورکمانڈر کے گھر کا منصوبہ پہلے سے بنا ہوا تھا، جس کی تفتیش ہوگی تو سب ثابت ہوجائے گا اور اسی منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے، کارکنان کے علاوہ ہمدردوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مظالم سے بچنے کے لیے جادو کا ایک واحد راستہ پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرنا ہے اور پیش کش کی جارہی ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے کے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے اگر پی ٹی آئی کا ساتھ نہ چھوڑا تو بدترین ظلم اور تشدد ہوگا۔