کسی کی کال ریکارڈ کرنا اتنا بڑا جرم حکومت اور کابینہ جاسکتی ہے، اعتزاز احسن

لاہور(آن لائن (سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ کسی کی کال ریکارڈ کرنا اتنا بڑا جرم حکومت اور کابینہ جاسکتی ہے، آڈیو لیک کمیشن کے ٹی آراوز چیف جسٹس کے گرد منڈلاتے ہیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج کو شامل کرکے کمیشن بنانا حکومت کا کام نہیں، اس کمیشن کے ٹی آراوز چیف جسٹس کے گرد منڈلاتے ہیں، نجی گفتگو کی آڈیو خود ہی غیرقانونی ہے، بے نظیر بھٹو کیس میں طے ہوا تھا کہ کال ریکارڈ کرنا جرم ہے، کال رکارڈ کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ حکومت اور کابینہ جاسکتی ہے۔حکومت چیف جسٹس کی رضا مندی کے بغیر جج کو کمیشن کا سربراہ کیسے بنا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ پتا لگانا ضروری ہے کہ فون کالز کون رکارڈ کرتا ہے؟ ٹی اوآرز میں فون ریکارڈ کرنے والے سے متعلق کچھ بھی شامل نہیں۔