ا سلام آباد(ان لاین)نگران پنجاب حکومت نے صوبہ میں فوری انتخابات کی مخالفت کردی ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب کی طرف سے عدالت عظمی میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعہ کے بعد سیکیورٹی حالات صوبے میں تبدیل ہوگئے ہیں،عمران خان کی گرفتاری کے بعد سول ملٹری املاک کو نقصان پہنچایا گیا،عمران خان گرفتاری کے بعد پر تشدد احتجاج اور مظاہرے ہوئے،مظاہروں میں 162 پولیس اہلکار زخمی، 97 پولیس گاڑیوں کا جلایا گیا،پنجاب میں الیکشن کیلئے 5 لاکھ 54 ہزار سیکورٹی اہلکار درکار ہونگے،اس وقت اگر الیکشن ہوئے تو صرف 77 ہزار کی نفری دستیاب ہے۔الیکشن کی تاریخ دینے کا سپریم کورٹ کا نہیں،الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے،14 مئی الیکشن کی تاریخ دیکر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی کی گئی،آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے کے پی الیکشن کی تاریخ نہیں دی،الیکشن پروگرام میں تبدیلی کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔
Load/Hide Comments



