کراچی (آن لائن)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر اقتصادی بحران کی کیفیت ہے،آئی ایم ایف پروگرام میں نہ گئے تو باقی دنیا بھی قرض نہیں دے گی،پاکستان کو ابھی مزید بحران کا سامنا ہوسکتا ہے،عمران خان کو 190ملین پاؤنڈ کا حساب دینا ہوگا،وہ گزشتہ روز کراچی کی نجی یونیورسٹی میں پاکستان کے مالیاتی بحران اور پری بجٹ کے موضوع پر سیشن سے خطاب کررہے تھے۔مفتاح اسماعیل کا پنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ کوویڈ ہے جسکے بعد دنیابھر میں مہنگائی کا سیلاب امڈ آیا ہے،روس یوکرین جنگ سے تیل وگیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا،مہنگائی آنے سے دنیا بھر میں سود کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،پوری دنیا میں ایندھن مہنگا ہوا لیکن بنگلہ دیش اور بھارت میں اتنی مہنگائی نہیں آئی جتنی پاکستان میں آئی،ہم نے 75سالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جمع کیا ہے،جس طرح ملک چلایا ہے ہم نے بہت زیادتیاں کیں،ایوب خان کی پالسیوں کی وجہ سے پاکستان ٹوٹا،پورا پاکستان 30ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کرتاہے،نوے کی دہائی میں پاکستان اور ویتنام کی ایکسپورٹس کی مالیت یکساں تھی،آج پاکستان کی ایکسپورٹس 30ارب اور ویتنام کی ایکسپورٹس 300ارب ڈالر ہے،چین اور سعودی عرب نے کیا پاکستان کو پیسہ دینے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے،ایک فیصد اشرافیہ ملک کو کنٹرول کررہی ہے،پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،اس طرز حکمرانی میں ہم کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے،سرکلر ڈیٹ بڑھنے کا مسئلہ سسٹم کی خرابی کا نتیجہ ہے،آئی ایم ایف پروگرام میں نہ گئے تو باقی دنیا بھی قرض نہیں دے گی،پاکستان میں اوسطا مہنگائی کی شرح 35فیصد تک پہنچ گئی ہے،چین نے پاکستان کو تین سے چار مرتبہ بیل آؤٹ پیکیج کی سہولت دی،پاکستان پر قرضوں کا حجم 100ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے،ملک میں قرضے لیکر روپیہ کو سستا کیا گیا جس سے آنے والی نسل پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے،پیشہ ورانہ ودیگر شعبوں میں تعلیم کا فقدان پاکستان کا اہم معاشی مسئلہہے،بھاری شہادتوں کے باوجود پاکستان میں دہشت گردی پر قابو نہ پایا جاسکا ہے،امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے کوئی غیرملکی پاکستان نہیں آتا،ڈھاکہ ائرپورٹ پر جتنی ائرلائنز آپریٹ ہورہی ہیں اتنی ائیرلائنز پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر نہیں ہوتیں،90فیصد پاکستانی تو 75سال سے مہنگائی کی زد میں ہیں،اب 10فیصد متوسط طبقہ اور 1فیصد الیٹ کلاس بھی مہنگائی کی زد میں آگیا ہے،پاکستانی اب مزید بحران سے بھی گزریں گے،معیشت کی سمت، طرز حکمرانی اور ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،ملک میں حکومتوں کے درمیان صحت مند مسابقت کا ماحول متعارف کرانے کی ضرورت ہے،کم ازکم 25ہزار ماہانہ اجرت کم ہے جسے نئے بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے بڑھانے کی ضرورت ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوں کی نمو 25فیصد گھٹنے سے ریونیو پر بھی منفی اثر مرتب ہوگا،عمران خان کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان کو 190ملین پاؤنڈ کا حساب دینا ہوگا،ماضی میں سب اس قانون کے تحت پکڑے گئے،اگر عمران خان کو اس قانون کے تحت پکڑلیا گیا تو کیا ملک جلا دیا جائیگا؟مجھے بھی اس قانون کے تحت 50دن جیل میں رکھا گیا،جنہوں نے پکڑا وہ بھی جانتے تھے کہ میں بے قصور ہوں،سیاسی درجہ حرارت میں کمی کے لیے کراچی کے کچھ اہم تاجروں کی عمران خان سے ملنے کی اطلاعات ہیں،سیاسی درجہ حرارت میں کمی کے لیے یہ ایک اچھا قدم ہے،مجھ پر دکانداروں پر ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے پارٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے دباؤ تھا،دکانداروں پر ٹیکس نافذ نہ کرنے کا اعتراف کرتا ہوں،ملک میں سیاست اب دشمنیوں میں تبدیل ہوگئی ہے،بحران سے نکلنے کے لیے سیاست دانوں جوڈیشری فوج حکمرانی میں رہنے والوں کو مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیئے،9مئی کو عجیب نوعیت کے واقعات رونما ہوئے جس پر پوری قوم کو دکھ ہوا.
Load/Hide Comments



