کراچی کی گنتی پوری نہ کرنے میں وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ادارہ شماریات ملوث ہیں ،حافظ نعیم الرحمن

کراچی(آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں کراچی کی گنتی پوری نہ کر کے اہل کراچی کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی کی گئی ہے اور اس زیادتی اور حق تلفی میں وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ادارہ شماریات براہ راست ملوث ہے، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ان میں شامل پارٹیوں نے اگر کراچی کی گنتی پوری نہیں کی تو ہم بھر پور عوامی احتجاج کریں گے اور عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔ہمارا واضح اور دو ٹوک مطالبہ ہے کہ جو جہاں رہتا ہے اسے وہیں شمار کیا جائے اور کراچی میں رہنے والے ایک ایک فرد کو خواہ وہ سندھی، بلوچی، پنجابی، پشتو اور اردو سمیت کوئی بھی زبان بولتا ہو اسے کراچی کی آبادی میں شمار کیا جائے۔ پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ میئر کے انتخاب کے حوالے سے ہمارے اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں جب پی ٹی آئی کے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے بلدیاتی انتخابات کے اگلے مرحلے کا شیڈول جاری کرنا مناسب نہیں، صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اس مرحلے میں بھی من پسند نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ شیڈول کو آگے بڑھایا جائے، حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ میئر اور ٹاؤن چیئر مین کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے تمام چیئر مین اور وائس چیئر مین کی شمولیت یقینی بنائی جائے، وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کے لائسنس میں مزید توسیع دے کے اس عوام دشمن ادارے کو اہل کراچی پر دوبارہ مسلط نہ کرے، ملک میں بجلی کی پیداوار زیادہ ہے اس میں سے کراچی کو بجلی دی جائے اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن کے لیے دیگر کمپنیوں کو بھی شامل کیا جائے، شہر میں مسلح ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، کراچی کے عوام کو چوروں اور مسلح ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے، شہر میں جرائم کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ کراچی پولیس میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے، خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ لسانیت اور عصبیت کی سیاست کی ہے اور لسانیت میں بھی طبقاتی تفریق رکھتی ہے، پیپلز پارٹی 15سال سے مسلسل سندھ میں حکومت کر رہی ہے لیکن اس نے اندرون سندھ کے مظلوم اور ستم رسیدہ عوام کی حالت زار کو بھی بہتر بنانے کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا اور ایک مخصوص ذہنیت کے ساتھ وڈیرہ شاہی نظام اور جاگیردارانہ تسلط کوقائم رکھنے کی کوشش کی ہے، اب کراچی کو بھی اسی نظام کے شکنجے میں لانا چاہتی ہے، اسی لیے کراچی کی آبادی کو کم کر کے، کراچی کی حقیقی نمائندگی پر ڈاکا ڈال کر سندھ پر وڈیروں و جاگیرداروں کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی ہے، جماعت اسلامی جب عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے تو الزام لگاتی ہے کہ جماعت اسلامی لسانیت پھیلا رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوری پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور جب انتخابات ہوگئے تو الیکشن پر قبضہ کر کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے لگی، اس کے لیے پوری سرکاری مشنری اور آر اوز اور ڈی آر اوز کو استعمال کیا گیا، بد قسمتی سے 15جنوری کے بعد سے الیکشن کمیشن بھی پیپلز پارٹی کی بی ٹیم نہیں بلکہ اے ٹیم بن گیا ہے اور عوام کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا، الیکشن کمیشن عوام کے ٹیکسوں سے چلتا ہے لیکن فیصلے پیپلز پارٹی کی مرضی کے کرتا ہے، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مردم شماری میں آبادی پر ڈاکا کراچی کے وسائل اور نمائندگی پر ڈاکا ہے، نوجوانوں کی ملازمتوں کے حق پر ڈاکا ہے، کراچی کی تعمیر و ترقی پر ایک ضرب کاری ہے، آبادی پرمارے گئے اس شب خون میں وفاقی و صوبائی حکومتیں، تمام حکمران پارٹیاں اور وفاقی ادارہ شماریات شامل ہیں، ادارہ شماریات واضح طور پر بتائے کہ سندھ حکومت نے ہی خانہ شماری میں دھاندلی اور جعل سازی کی اور سندھ حکومت ہی کراچی کی آبادی کو پورا شمار نہیں کرنے دے رہی.