وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ چیف جسٹس کے مس کنڈکٹ کا جائزہ لے،خواجہ آصف

اسلام آباد (آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ چیف جسٹس کے مس کنڈکٹ کا جائزہ لے،آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت مخصوص ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے،جنگ صرف ایک ہے قاضی فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس بننے سے روکا جائے، ایک ملزم کو وش یو گڈ لک کہا جارہا ہے،کرسی کو کوئی داماد کیلئے، کوئی ساس اور کوئی چاچے مامے کیلئے استعمال کر رہا ہے،پیر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا۔وزیردفاع خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں ایک گروہ ہے وہ فیصلے نہیں سیاست کررہے ہیں،عدلیہ کی روایات اور حدود کی پامالی ہورہی ہے،چار تین کا فیصلہ آیا ہوا ہے اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے،ایک فرد واحد اپنے فیصلے مسلط کررہا ہے،عمران خان کو ریلیف دے کر ایک فتنے کو ہوا دے رہا،اب وقت آگیا ہے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کریں،پارلیمنٹ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنا چاہیے،یادگاروں کو مسمار کیا گیا کور کمانڈر کے گھر پر حملہ کیا گیا،ہمارا دشمن انڈیا نے چینلز پر تماشا لگایا ہوا،وقت آگیا ہے پارلیمنٹ اپنا رول منوائے،آج ایوان اپنا تاریخی کردار ادا کرے،خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ساڑھے بارہ بجے سپریم کورٹ کی کاروائی کا آغاز ہونے جا رہا ہے،پجہتر سالہ تاریخ میں عدلیہ سے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں،ان واقعات کو ملکی تاریخ میں سیاہ الفاظ میں بھی یاد رکھا جائے گا، عدلیہ میں ایک گروہ نے سیاسی گروہ کی شکل اختیار کر لی ہے،وہ گروہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے نہیں سیاسی گروہ والے فیصلے کر رہا ہے، عدلیہ میں ایک گروہ نے سیاست کا بیڑا اٹھا لیا ہے،چار تین سے عدلیہ سے ایک فیصلہ آیا اسے تین چار کا فیصلہ کہا گیا،وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کریں،ایک شخص کے مفادات کیلئے آئین کی روح بدل دی گئی،وہ عدل نہیں کر رہے وہ سیاست کر رہے ہیں،عدلیہ کے جتھے آئین کی خلاف ورزی نہیں ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں جنہوں نے کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا،آئین کے مطابق جو کاروائی درج ہے اس پر عمل ہونا چاہیے،خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل ہیڈکوارٹرز پر تحریک انصاف سے پہلے تحریک طالبان نے حملہ کیا،پارلیمنٹ چیف جسٹس کے مس کنڈکٹ کا جائزہ لے،آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے،مخصوص ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کیاجائے،انہوں نے کہا کہ خاتون وزیر صحت اب ہسپتال جا کے لیٹ گئی ہیں،کسی کی بیماری پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن پھر دلیری بھی ہونی چاہیے،معافیاں مانگ رہے ویڈیو پیغام آرہے فون اپنے لوکیشن کے ڈر سے گھروں میں رکھ گئے،خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف انکوائریوں کے اوپر لاکھوں ڈالرز خرچ کئے گئے،ان انکوائریوں کے نتائج کیا نکلے؟ اس لفافے کی انکوائری کیوں نہیں کروائی گئی،اسطرح نہیں سیاستدانوں کی بولی لگا کر جو مرضی کر لیں،عمران خان اگر بک سکتا ہے تو یہاں پر ایسے لوگ موجود ہیں جو نہیں بکے،پی ٹی آئی کے صدر مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آتا کہ وہ صدر ہیں،اس پرویز الہٰی صدر صاحب کا بیٹا 265,70 والا ڈالر تین سو میں یہاں سے لے کر گیا،چادر چاردیواری کی بات کرتے ہیں مریم نواز اور دیگر خواتین کے وقت چادر چاردیواری نہیں تھی،پاکستان میں یہ روایت تھی کہ پرچے لیک ہوتے تھے اب فیصلے لیک ہوتے ہیں،طارق رحیم نے جو آڈیو میں بتایا عین اس کے مطابق فیصلہ ہوا،انہوں نے عدل کو مزاق بنالیا ہے آپ ایک ملزم کو کہہ رہے کہ وش یو گڈ لک،آپ انصاف کرنے کیلئے بیٹھے ہوئے لوگوں کو وش کرنے یا تعویذ دھاگا دینے نہیں،اپنی کرسی کو کوئی داماد کیلئے کوئی ساس اور کوئی چاچے مامے کیلئے استعمال کر رہا ہے،آپ نے انصاف کرنا ہے انصاف کرنا اللہ تعالیٰ کی خوبیوں میں بڑی چیز ہے،آپ عدل کا کس طرح مذاق اڑا رہے ہیں اور عدل کو رول رہے ہیں،تین کا جو بینچ ہے ان سے کیا عدل کی توقع کی جا سکتی ہے؟ کیا کوئی اور جج نہیں عدالت میں جس کیس کو دیکھاجائے یہ تین بیٹھے ہیں،وقت آگیا ہے کہ اس ہاؤس کے اختیارات کا استعمال کیا جائے،ایوان میں درخواست کی تھی ہاؤس کی ایک کمیٹی بنائی جائے،عدالتوں میں چار لاکھ کیسز پینڈنگ پڑے ہیں،عدل کے انڈیکس پر آپ گیارہ پوائنٹس گر گئے ہیں،گیارہ پوائنٹس تنزلی کا مطلب انصاف رل گیا ہے،جنگ صرف ایک ہے اور اس پر صرف فوکس مقصد ایک ہے،مقصد صرف ایک ہے کہ قاضی فائز عیسی کو چیف جسٹس بننے سے روکا جائے،ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں کھل کر کہہ رہا ہوں یہ اس شخص کو چیف جسٹس نہیں بنانا چاہتے،ججوں کا نام لینا معیوب سمجھتا ہوں اب مجبور کردیا ہے،اتنا بڑا فراڈ ہو گیا اور چیف جسٹس صاحب کہہ رہے ہیں دیکھ کر خوشی ہوئی،فراڈیوں کو دیکھ کر جنہیں خوشی ہوتی ہے وہ کیا ہوتے ہیں؟ایوان کی رائے لے کر کمیٹی بنائیں اور وہ کمیٹی ان ججز کے خلاف ریفرنس دائرکرے،وزیراعظم سے گزارش کرونگا لکھنوی انداز نہ اپنایا جائے،جو آوازیں ان کی طرف سے آرہی ہیں اسی زبان میں جواب دینا ہوگا۔