اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی میں صوبہ پنجاب کی طرف سے صوبہ خیبرپختونخوا کو آٹے کی فراہمی پر غیر اعلانیہ پابندی کو اراکین اسمبلی نے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے خاتمے کا مطالبہ کر دیا،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس کا نوٹس لیا ہے معاملہ جلد حل کر لیا جائے گا۔قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کے روز سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہاکہ پنجاب سے جوگندم کے پی کے میں جاتی تھی اس ہر اپریل سے مکمل پابندی لگادی ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے آئین کے آرٹیکل 151 کی شق کہتی ہے یہ پابندی آئین کی کھلی کھلا خلاف ورزی ہییہ ہرسال ہوتا ہے۔آپ گندم بند کریں گے تو وہاں سے بجلی بند ہوجائے گی اس پابندی پر کوئی تحریری آڈر بھی نہیں ہے اس پر صوبے سے رپورٹ لی جائے رکن اسمبلی میر منورعلی تالپور نے کہاکہ سندھ کو اپنے حصے کا پانی نہیں مل رہاہے اس پر خاموشی افسوس ناک ہے۔بھارت دریائے سندھ پر ڈیم بنا رہا ہے اور حکومت خاموش ہے۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہاکہ کے پی کے میں آٹے کی شدید قلت ہوگئی ہے وزیراعظم نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے آج اس پر آڈر جاری کریں گے تاکہ مسئلہ حل ہو۔مولانا عبدلاکبر چترالی نے کہاکہ آئین نے سب کو ایک جیسے حقوق دیئے ہیں کے پی کے جانے والے ٹرکوں سے رشوت لی جارہی ہے اس سے نفرت پیدا ہو رہی ہے۔اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔شیخ فیاض الدین نے کہاکہ پرائیویٹ ممبر ڈے ہے ممبر ہے نہیں تو غیر ممبر ڈے منائیں.
Load/Hide Comments



