پارلیمان ثاقب نثار کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلاکر نشان عبرت بنا ئے، عابد شیر علی

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما عابد شیر علی نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے خلاف آرٹیکل 6کے تحتمقدمہ دائر کرنے کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف سعید کھوسہ، اور ثاقب نثار نے جو کیا ان کا کردار سب کے سامنے ہے، جسٹس (ر) ثاقب نثار کی تما مراعات بند کرکے ان کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ ہفتہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جسٹس(ر) ثاقب نثار جسٹس (ر)گلزار اور آصف سعید کھوسہ سمیت فیض حمید کا کردار سب کے سامنے ہے یہ چاروں کردار معافی کے لائق نہیں ہیں،بدکردار ججز نے ملک تباہ کردیا،فیض حمید سے عمران خان سب کرواتا تھا کیا پاکستان کا آئین کسی باوردی شخص کو سیاست میں مداخلت کی اجازت دیتا ہے مسلح افواج کی آج شہادتوں کا ذمہ دار فیض حمید ہے۔ان چاروں کرداروں بارے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی تحقیقات کرے نوازشریف کے خلاف تمام گھناؤنے کردار ننگے ہوگئے ہیں یہ کردار نواز شریف سے معافی مانگیں کیونکہ یہ بد کردار ہیں۔ثاقب نثار،آصف کھوسہ اورجسٹس گلزار کی مراعات ختم کی جائیں۔ عابد شیر علی نے کہا کہ پارلیمان سے درخواست ہے کہ ثاقب نثار کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلایا جائے اور ان بدکرداروں کو تاحیات جیلوں میں پھینک کر عبرت کا نشانہ بنایا جائے،کونسے ایسے کردار تھے جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے ملک کا بیڑ ا غرق کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کی ایماء پر مسلم لیگ ن کی قیادت اور ان کے اہلخانہ کو کئی مہینوں تک جیلوں میں رکھا گیا۔مسلم لیگ ن نے ریاست بچانے کیلئے سیاست داؤ پر لگا دی، عمران خان کو ساز ش کے تحت مسیحا بنا کر پیش کیا گیا، عمران نیازی ملک دشمن سازش میں اہم کردار ادا کررہا ہے،، نواز شریف کا قصور کیا تھا کہ انہیں تاحیات نااہل کر دیا گیا،عمران خان کی ہر روز ضمانتیں ہو جاتی ہیں، ان کو کو ئی پوچھنے والا نہیں ہے، نواز شریف کے روشنیوں کے پاکستان کو عمران خان نے تاریکیوں میں دھکیل دیا کیا یہ نیا پاکستان تھا، عمران خان نے ملک میں ہر سطح پر انتشار پھیلایا، بی آر ٹی،بلین ٹری سونامی، میں کرپشن کسی کو نظر نہیں آئی،ان لوگوں نے سازش کے تحت پاکستان کی ترقی کا سفر ڈی ریل کیا۔ عابد شیر علی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سونامی نے پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے آج ہمیں آئی ایم ایف کے منت ترلے کرنا پڑتے ہیں.