اسلام آباد/پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات کو حل کرنا عدالتوں کا اختیار نہیں۔ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے سیاسی مسئلہ حل کی بجائے مزید پیچیدہ ہوا۔ سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے عدلیہ متنازعہ اور تقسیم ہوئی ہے۔ چار ججز کا فیصلہ آجاتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ آپ نے تین ججز کا فیصلہ ماننا ہے۔آئین اور قانون سے متعلق سارے کیسزمخصوص بینچ کے سامنے کیوں رکھے جاتے ہیں؟ اے این پی کیمرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدر خان ہوتی کی اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعددیگر سیاسی رہنماں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پارلیمانی وفاقی نظام کی بجائے کوئی اور نظام نہ چل سکتا ہے اور نہ ہوگا۔ صدارتی یا کسی اور نظام کی خواہش کرنے والے اس کا سوچیبھی نہیں۔ تمام سیاسی قوتیں متحد اور متفق ہیں کہ ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام ہی رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراہم سب کا مشترکہ مطالبہ ہے۔ صوبوں کو ہر قیمت پر آئینی حقوق دینے ہوں گے۔صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق اور پاکستان مضبوط ہوگا۔ مارشل لا کے دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا کرانکو ختم کیا گیا۔ملک بھر میں طلبہ یونینز کو فوری طور پر بحال کیا جائیاورقانون سازی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ایک سیاسی قوت اکیلے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نہیں نکال سکتی۔ اے این پی عوام اور ملک کی خاطر سب کے ساتھ مل بیٹھنے کیلئے تیار ہے۔موجودہ مہنگائی سے غریب کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کیا مہنگائی کا یہ طوفان موجودہ حکومت کا کیا دھرا ہے؟۔وہ کونسی حکومت تھی جس نے2028 سے لیکر 2023 تک سب سے زیادہ اور مہنگے قرضے لئے،پہلے آئی ایم ایف شرائط کو تسلیم کیااور پھر اپنی سیاست کیلئے اسکی خلاف ورزی کی۔موجودہ مہنگائی اورمعاشی بحران کی ذمہ دار پچھلے حکومت اور انکی پالیسیاں ہیں۔ معیشت کو ہر قیمت بہتری کی جانب لے جانا ہوگا اور عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے ملک کو ایک نئے معاشی میثاق کی ضرورت ہے۔
Load/Hide Comments



