کراچی(آن لائن)صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن اور مکیش کمار چاولہ نے کہا ہے کہ رواں سال سندھ میں 36 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا بمپر فصل اترا ہے، جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 لاکھ میٹرک ٹن زیادہ ہے، جس کا پورا کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو جاتا ہے، جنہوں نے وقت پر گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور ملک کو خوراک کے بحران سے محفوظ بنا دیا حالانکہ کے دوسرے صوبوں کی حکومتوں نے گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔ صوبائی وزراء نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم کی خریداری کا اس سال 14 لاکھ میٹرک ٹن ٹارگٹ مقرر کیا ہے، 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن کا ٹارگٹ پورا کرلیا ہے، مئی میں انشاللہ سندھ حکومت 100 فیصد ٹارگٹ پورا کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم کے بحران کے خدشہ کے پیش نظر گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد کی ہوئی ہے، اور تمام بارڈر سیل ہیں تاکہ گندم باہر اسمگل نہ ہوسکے، سندھ حکومت اپنا ٹارگٹ پورا کر لے گی تو پابندی ہٹا دی جائے گی، انہوں نے کہا سندھ میں گندم کا کوئی بحران نہیں، کراچی کی فلار ملز کو سندھ حکومت نے 10500 روپے میں گندم کی سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے، روزانہ کی بنیاد سے آپریشن جاری ہے، سندھ حکومت فلار ملز سے کی گئی کمٹمنٹ پر قائم ہے، آج تک پہلے مرحلے میں 5 لاکھ بوریاں ملز ایسوسی ایشن کو سپلائی کا ٹارگٹ مکمل ہو جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں فلور ملز مالکان چالان جمع کرائیں انہیں گندم سپلائی ان کی ضرورت کے مطابق یقینی بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 2007 سے پہلے بھی ہم گندم درآمد کرتے تھے،لیکن 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اورآصف علی زرداری صدر پاکستان بنے انہوں نے زراعت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی اور نتیجہ میں ہم پاکستان گندم کی پیداوار میں خودکفیل ہوگیا اور ہم گندم برآمد کرنے کے قابلِ بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب کی وجہ سے زراعت کے شعبہ میں بڑا نقصان ہوا، کسان اور آبادگار مشکل حالات سے گذرے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مشاورت کر کے گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر کی تاکہ کسان اور آبادگار گندم لگائیں۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت نے کسانوں اور آبادگاروں کو بیج کی خریداری کے لیے بھی فی ایکڑ 5 ہزار روپے سبسڈی دی۔جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں اور آج سندھ میں وافر مقدار میں گندم کی پیداوار ہوئی ہے۔
Load/Hide Comments



