اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ طاقت ور اداروں کے اختیارات سے تجاوز اور بے جا مداخلت کے رجحان نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بے جا مداخلت کاروں اور اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کا کبھی محاسبہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے ملکی نظام ا?ج بھی ابتر ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقتوروں کے اس نظام میں سیاست دان ہر دور میں ظلم و جبر کا شکار رہے ہیں اس کے باوجود کہ یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا، اسے متفقہ اَئین سیاستدانوں نے دیا، ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی سے لیس سیاستدانوں نے کیا مگر ہر دور میں پارلیمنٹ، اَئین، وزرائے اعظم، وزرا اور سیاستدانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے آزادی کے ۷۵ سال بعد بھی ہم پسماندگی کا شکار ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سپریمیسی کو تسلیم نہ کر کے طاقتور اداروں نے ملکی نظام کو کمزور کیا جس کی وجہ سے ا?ج ہم معاشی، معاشرتی اور سیاسی انحطاط کا شکار ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پارلیمنٹ وہ واحد ادارہ ہے جو سپریم ہونے کے باوجود اپنے اختیارات چیک اینڈ بیلنس کے تحت استعمال کرتا ہے جبکہ دیگر طاقت ور ادارے اپنے اختیارات بے دریغ اور بے لگام استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کی سپریمیسی کو منوایا جائے اور طاقتور اداروں کو آئینی اور قانونی چیک اینڈ بیلنس کے دائرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں کبھی مارشل لا اور کبھی جوڈیشل مارشل لا لگائے جاتے رہیں وہ ملک نہ تو ترقی کر سکتا ہے اور نہ ملکوں کی برادری میں باعزت مقام حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک اور اْس کے نظام کے خلاف سازشی تھیوریاں بنانا اور پھر ملکی وسائل کے استعمال سے ان پر عمل درآمد کرنا جرم ہے اور ایسے جرائم کے تدارک کے بغیر ملک سے پسماندگی، انتشار اور افراتفری کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔
Load/Hide Comments



