شریف پہلے غیر قانونی اقدامات پھر مذاکرات بھی کرتے ہیں تاکہ ملاقات انڈر پریشر ہو، ان کو پتہ نہیں یہ عمران خان کی پارٹی ہے: چودھری پرویزالٰہی

لاہور (آن لائن) اینٹی کرپشن کی عدالت کے جج علی رضا نے چودھری پرویزالٰہی پر رشوت لینے کے الزام میں مقدمے کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی اور انہیں 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے تصدیق کی کہ رشوت کے معاملے میں چودھری پرویزالٰہی موقع پر موجود نہ تھے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ چودھری پرویزالٰہی کا رشوت لینا ثابت نہیں ہوا۔ چودھری پرویزالٰہی کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا چودھری پرویزالٰہی پر یہ مقدمہ انتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں، اینٹی کرپشن نے سیاسی بنیادوں پر جھوٹا مقدمہ بنایا ہے۔ دریں اثناء اینٹی کرپشن نے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں کرپشن کے الزام میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی پر ایک اور مقدمہ درج کر لیا جس پر عبوری ضمانت کیلئے چودھری پرویزالٰہی نے اینٹی کرپشن کی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے 11 مئی تک چودھری پرویزالٰہی کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور 50 ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں چودھری پرویزالٰہی نے حفاظتی ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے جج طارق سلیم شیخ کی عدالت سے بھی رجوع کر لیا جس پر عدالت نے چودھری پرویزالٰہی کی 6 مئی تک حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا۔ مرکزی صدر پاکستان تحریک انصاف چودھری پرویزالٰہی نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شریفوں نے ہمیشہ انتقامی سیاست کی ہے، سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کر کے پکڑ دھکڑ شریف خاندان کا وطیرہ ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شریف پہلے غیر قانونی اقدامات بھی کرتے ہیں اور پھر مذاکرات بھی کرتے ہیں تاکہ ملاقات اور مذاکرات انڈر پریشر ہوں لیکن شاید ان کو پتہ نہیں ہے کہ یہ عمران خان صاحب کی پارٹی ہے، عمران خان نے خود اپنی مذاکراتی ٹیم کو کہا ہے کہ میں شریف برادران کو اچھی طرح جانتا ہوں اگر آپ ان کی نیت میں خرابی دیکھیں تو مذاکرات چھوڑ کر آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں شریفوں کے ”مبارک قدم“ پڑ جائیں وہاں سب امیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سب دیکھ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سب سیاسی لوگ مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کر لیں ورنہ ہم فیصلہ کریں گے، ہم سپریم کورٹ کا حکم مانتے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ بھگوڑے کی کوئی بات نہ کریں جس نے بات کرنی ہے وہ ملک کے اندر آ کر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جو میں نے کہا انہوں نے میری بات مانی ہے، عمران خان کو سب امیدواروں کا پتہ ہے اس لیے جن لوگوں کا میں نے کہا ان کا واقعی حق بنتا تھا عمران خان نے ان کو ٹکٹ دیئے لیکن پارٹی میں گروپ بندی کرنے والوں کو ٹکٹ نہیں ملے۔